اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکہ کی جانب سے یوکرین کو پیش کیا گیا 28 نکاتی امن منصوبہ، جس کی مدتِ قبولیت کے لیے 27 نومبر کی ڈیڈ لائن رکھی گئی ہے۔
صرف ایک تجویز نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری، اصولی سیاست اور بین الاقوامی نظم کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف یوکرین کو ایک غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے بلکہ اس نے عالمی قوتوں کے کردار اور ترجیحات پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ منصوبہ — جو واشنگٹن اور ماسکو کے اشتراک سے تیار ہوا — عملی طور پر کریملن کے کئی دیرینہ مطالبات کو تقویت دیتا ہے۔ اس میں کچھ یوکرینی علاقوں کو ’’ڈی فیکٹو روسی‘‘ تسلیم کرنے کی شق بھی شامل ہے، جو اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں، یعنی ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت، سے براہِ راست متصادم ہے۔
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے بجا طور پر اسے اپنے ملک کی تاریخ کے ’’سب سے مشکل لمحوں‘‘ میں سے ایک قرار دیا ہے۔ ان کے سامنے انتخاب یہ ہے کہ یا وہ اپنے اہم پارٹنر امریکہ کو ناراض کریں یا اپنی قومی خودمختاری کی قیمت چکائیں — اور یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کا بوجھ شاید آنے والی نسلیں بھی محسوس کریں گی۔
امن کس قیمت پر؟
اگر امن کی شرط کسی ریاست کے حصوں کو خاموشی سے کسی اور طاقت کے کنٹرول میں دینا ہو، تو یہ امن نہیں، طاقت کا فیصلہ ہوتا ہے۔کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور دیگر 12 عالمی رہنماؤں نے بجا طور پر اس منصوبے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحدوں کی تبدیلی ’’طاقت کے زور‘‘ پر نہیں کی جا سکتی۔ مزید یہ کہ منصوبے میں یوکرین کی فوجی استعداد محدود کرنے کی تجویز مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ رکھتی ہے — ایک غیر مسلح یوکرین ہمیشہ کمزور یوکرین رہے گا۔عالمی سیاست میں اصولوں کی بات اکثر کمزور پڑ جاتی ہے، مگر موجودہ صورتحال اس بات کی سختی سے متقاضی ہے کہ بڑے ممالک عالمی قوانین کو اپنی وقتی حکمتِ عملی کا محتاج نہ بنائیں۔ اگر آج یوکرین کی قیمت پر ایک طاقتور ملک کی خواہش پوری ہو جائے، تو کل کوئی اور ملک اسی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کی بات اس پس منظر میں بےحد اہم ہےاگر دنیا واقعی قانون کی حکمرانی اور ریاستی خودمختاری کو اصولی طور پر مانتی ہے، تو پھر یوکرین کے مستقبل کا فیصلہ بھی صرف یوکرین کو کرنا چاہیے — نہ کہ کسی بیرونی طاقت کے دباؤ یا سودے بازی کے تحت۔
یہ وقت عالمی برادری کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔کیا وہ اس منصوبے کو ’’امن‘‘ کا نام دے کر اصولوں سے دستبردار ہو جائے گی؟یا وہ ایک ایسی دنیا کے لیے کھڑی ہوگی جہاں کمزور ریاستیں کسی بڑی طاقت کی مرضی کا شکار نہ ہوں؟امن کی راہ یقینا ضروری ہے، مگر یہ راہ انصاف اور مساوات سے ہو کر گزرنی چاہیے۔ طاقت کی سیاست پر مبنی منصوبے دیرپا امن نہیں دے سکتے۔ یوکرین کا معاملہ آج کا نہیں—یہ عالمی مستقبل کا معاملہ ہے۔G20 سربراہان کو اس بحران کا سامنا جرات، اصول پسندی اور غیر جانبدار سوچ کے ساتھ کرنا ہوگا—کیونکہ اگر آج اصول ٹوٹے، تو کل سرحدیں مزید کمزور ہوں گی۔