اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ایک نئی معاشی رپورٹ کے مطابق رواں سال کینیڈا کی معاشی شرحِ نمو کم ہو کر 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو 2025 میں 1.7 فیصد تھی۔ اگرچہ مجموعی ترقی کی رفتار میں کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے، تاہم ڈیلائٹ کینیڈا کی چیف اکانومسٹ ڈان ڈیسجارڈنز کا کہنا ہے کہ وہ محتاط طور پر پُرامید ہیں کہ سال کے دوسرے نصف میں معیشت میں دوبارہ رفتار پیدا ہو سکتی ہے۔
ڈان ڈیسجارڈنز کے مطابق اگرچہ 2026 میں مجموعی ترقی 2025 کے مقابلے میں کچھ سست رہے گی، لیکن اگر سال کے وسط کے بعد معاشی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے تو یہ صورتحال 2027 کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پالیسی میں غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر مختلف رکاوٹوں کے باعث مشکلات ضرور رہیں، تاہم کینیڈا میں کسی بڑی کساد بازاری کا خدشہ درست ثابت نہیں ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بظاہر معیشت مستحکم دکھائی دیتی ہے، لیکن پس منظر میں تجارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے اصل معاشی کمزوریوں کو چھپا رکھا تھا۔ خاص طور پر صارفین کے اخراجات میں نرمی اور کاروباری سرمایہ کاری میں کمی نمایاں رہی۔ ڈیسجارڈنز کے مطابق 2026 میں دو اہم عوامل پر نظر رکھنا ضروری ہوگا، جن میں تجارت اور سرمایہ کاری سرفہرست ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (CUSMA) کے جائزے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر امریکی منڈی تک رسائی محدود ہوئی تو یہ کینیڈا کی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، تاہم بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ اپنا سازگار تجارتی تعلق برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گا۔
کاروباری سرمایہ کاری کے حوالے سے ڈیسجارڈنز کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے تجارتی پالیسی پر وضاحت آئے گی اور وفاقی حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچر اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں معاونت بڑھے گی، سرمایہ کاری ایک نئے موڑ میں داخل ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف معاشی سرگرمی بڑھے گی بلکہ کینیڈا میں دیرینہ مسئلہ سمجھی جانے والی پیداواری صلاحیت میں بہتری بھی آ سکتی ہے۔
صارفین کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال کے پہلے حصے میں اخراجات محدود رہنے کا امکان ہے، تاہم اگر روزگار کی صورتحال میں بہتری آئی تو سال کے دوسرے نصف میں کھپت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، آبادی میں سست اضافے کے باعث صارفین کے اخراجات میں نمایاں تیزی کی توقع نہیں کی جا رہی۔
ادھر بیشتر ماہرینِ معاشیات کی طرح ڈیسجارڈنز کا بھی خیال ہے کہ بینک آف کینیڈا 2026 میں اپنی بنیادی شرحِ سود 2.25 فیصد پر برقرار رکھے گا۔ گزشتہ سال مرکزی بینک نے چار مرتبہ شرحِ سود میں کمی کی تھی۔ گورنر ٹیف میکلم کے مطابق موجودہ شرح مہنگائی کو قابو میں رکھتے ہوئے معاشی ترقی کے لیے موزوں سطح پر ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر ڈیسجارڈنز نے کہا کہ حکومتی مالیاتی پالیسی، کم شرحِ سود اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری کا امتزاج 2026 کے دوسرے نصف میں کینیڈا کو دوبارہ مضبوط معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔