اردوورلڈکیینڈا(ویب نیوز)کینیڈا کو دنیا کے سرد ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں سال کے کئی مہینے برف جمی رہتی ہے، بڑے بڑے علاقے سرد موسم کی لپیٹ میں رہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہر سال کینیڈا کے مختلف حصوں میں خطرناک جنگلاتی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک ٹھنڈے ملک میں اتنی شدید آگ کیوں لگتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ کینیڈا کا سرد موسم اس کے جنگلات کو آگ سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بناتا۔ ملک کا وسیع رقبہ، گھنے جنگلات، بدلتا ہوا موسم اور بڑھتی ہوئی گرمی ایسے عوامل ہیں جو معمولی چنگاری کو بھی بڑے بحران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
کینیڈا کے وسیع جنگلات بڑا خطرہ
کینیڈا دنیا کے سب سے زیادہ جنگلات رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ملک کا تقریباً نصف سے زیادہ حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ یہ جنگلات قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ خشک موسم میں آگ کے لیے ایندھن بھی بن جاتے ہیں۔
جب موسم گرم اور خشک ہوتا ہے تو درختوں کے پتے، سوکھی گھاس، شاخیں اور لکڑی تیزی سے خشک ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر کہیں بجلی گر جائے، انسانی غلطی ہو یا کوئی چھوٹی چنگاری پیدا ہو تو آگ تیزی سے پھیل سکتی ہے۔
سرد ملک میں گرمی کا اثر کیوں بڑھ رہا ہے؟
ماہرین کے مطابق کینیڈا میں جنگلاتی آگ کے بڑھتے واقعات کے پیچھے موسمیاتی تبدیلی ایک اہم عنصر ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث کئی علاقوں میں گرمی کی لہریں زیادہ شدید اور طویل ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا میں جنگل کی آگ بے قابو، ہزاروں افراد کا انخلا، متعدد علاقوں میں ہنگامی صورتحال
ماضی میں جو علاقے زیادہ ٹھنڈے رہتے تھے وہاں بھی اب موسم کے انداز میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ برف پگھلنے کا وقت تبدیل ہو رہا ہے، خشک موسم طویل ہو رہا ہے اور جنگلات میں نمی کم ہونے سے آگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
بجلی گرنا بھی بڑی وجہ
کینیڈا میں جنگلاتی آگ کی ایک بڑی قدرتی وجہ آسمانی بجلی گرنا بھی ہے۔ ملک کے دور دراز جنگلاتی علاقوں میں جب بجلی درختوں کو متاثر کرتی ہے تو وہاں آگ شروع ہو سکتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کینیڈا کے جنگلات بہت وسیع اور بعض علاقے انتہائی دور دراز ہیں، جہاں فوری طور پر پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے چھوٹی آگ کئی مرتبہ بڑے رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
انسانی غلطیاں بھی ذمہ دار
اگرچہ قدرتی عوامل اہم ہیں، لیکن انسانی سرگرمیاں بھی جنگلاتی آگ کا سبب بنتی ہیں۔ کیمپنگ کے دوران جلائی گئی آگ، سگریٹ کے بچے ہوئے ٹکڑے، مشینری سے نکلنے والی چنگاریاں اور دیگر لاپرواہیاں کئی واقعات میں آگ کا باعث بنتی ہیں۔
حکام مسلسل عوام کو خبردار کرتے ہیں کہ جنگلاتی علاقوں میں معمولی سی بے احتیاطی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
آگ کا معیشت اور زندگی پر اثر
جنگلاتی آگ صرف درختوں کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ انسانی زندگی، معیشت اور ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ کئی مرتبہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑتا ہے۔
آگ کے دھوئیں سے ہوا کا معیار خراب ہو جاتا ہے، جس کے اثرات کینیڈا کے علاوہ امریکا کے بعض علاقوں تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ صحت کے ماہرین کے مطابق دھوئیں میں موجود ذرات سانس کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
کیا کینیڈا مستقبل میں محفوظ رہ سکے گا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلاتی آگ کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں کیونکہ یہ قدرتی نظام کا حصہ بھی ہے، تاہم بہتر منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، جنگلات کی نگرانی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات سے نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا میں جنگلاتی آگ بے قابو، ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور، کئی گھر تباہ
کینیڈا کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ ٹھنڈا ملک ہے یا گرم، بلکہ اصل مسئلہ اس کے وسیع جنگلات، بدلتے موسم اور بڑھتے ہوئے خشک حالات ہیں۔ برفانی زمین کے باوجود جب قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے تو یہی علاقے خطرناک شعلوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
کینیڈا کی جنگلاتی آگ دراصل ایک بڑی عالمی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف گرم علاقوں کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ دنیا کے سرد ترین خطے بھی اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔