اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کو سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے ان کے اس عالمی مؤقف کو مسترد کر دیا جو انہوں نے عالمی اقتصادی فورم (ڈیووس) میں اپنی تفصیلی تقریر کے دوران پیش کیا تھا۔ مارک کارنی کی تقریباً چالیس منٹ طویل تقریر میں موجودہ عالمی نظام، بڑی طاقتوں کے رویّے اور درمیانے درجے کے ممالک کے کردار پر غیر معمولی تنقید کی گئی تھی۔
ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم کارنی نے کہا کہ سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا نام نہاد “قواعد پر مبنی عالمی نظام” اب عملی طور پر ٹوٹ چکا ہے اور دنیا کسی تدریجی تبدیلی کے نہیں بلکہ ایک واضح ٹوٹ پھوٹ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں مالی بحران، عالمی وبائیں، توانائی کے مسائل اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حد سے زیادہ عالمی انضمام خود ایک خطرہ بن چکا ہے۔
کارنی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بڑی طاقتوں نے تجارت، مالیاتی نظام اور سپلائی چینز کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے بقول محصولات دباؤ کے لیے، مالیاتی ڈھانچے جبر کے لیے اور عالمی سپلائی چینز کمزور ممالک کو زیر کرنے کے لیے بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے حالات میں یہ سوچنا کہ عالمی انضمام سب کے لیے یکساں فائدہ مند ہے، خود فریبی کے مترادف ہے۔
کینیڈین وزیرِاعظم نے اس تناظر میں درمیانی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ پرانے نظام کے سہارے جینے کے بجائے نئے اتحاد اور شراکت داریاں تشکیل دیں تاکہ معاشی دباؤ اور سیاسی جبر کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کینیڈا کی دفاعی اخراجات میں اضافے، نئے تجارتی معاہدوں اور سیکیورٹی تعاون کو اسی نئی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا، جسے انہوں نے “اقدار پر مبنی حقیقت پسندی” کا نام دیا۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تقریر کے بعد واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے واضح ناراضی کا اظہار کیا۔ اگرچہ انہوں نے کارنی کی تقریر کے کسی مخصوص حصے کا حوالہ نہیں دیا، مگر ان کے ریمارکس سے یہ تاثر ملا کہ وہ امریکا پر لگائے گئے الزامات سے خوش نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کو امریکا کی جانب سے بے پناہ سہولتیں اور فوائد حاصل ہیں، اس کے باوجود وہ شکرگزاری کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیرِاعظم کارنی کی حالیہ گفتگو دیکھی، جس میں وہ زیادہ شکر گزار دکھائی نہیں دیے۔ ٹرمپ کے مطابق کینیڈا کا معاشی اور اسٹریٹجک استحکام بڑی حد تک امریکا سے جڑا ہوا ہے، اور کینیڈین قیادت کو بیانات دیتے وقت اس حقیقت کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔
دوسری جانب مارک کارنی نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ اگر درمیانے درجے کے ممالک عالمی فیصلوں کی میز پر موجود نہیں ہوں گے تو وہ خود فیصلوں کا نشانہ بنیں گے۔ ان کے مطابق بڑی طاقتیں تنہا فیصلے کرنے کی سکت رکھتی ہیں، مگر درمیانی ممالک کو اجتماعی طور پر آگے بڑھنا ہوگا، ورنہ وہ کمزور پوزیشن سے مذاکرات پر مجبور رہیں گے۔
عالمی مبصرین کے مطابق یہ لفظی ٹکراؤ امریکا اور کینیڈا کے درمیان عالمی سیاست، تجارت اور طاقت کے توازن پر بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے، جو آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتا ہے