اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈین ریٹیل کمپنی کینیڈین ٹائر کو کیوبیک کے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی پر تقریباً 13 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کمپنی نے غلط تشہیر سے متعلق قانون کی 74 دفعات کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا ہے۔
کراؤن پراسیکیوٹر جیروم دوسو کے مطابق کینیڈین ٹائر نے ابتدا میں الزامات سے انکار کیا تھا، تاہم بعد ازاں کمپنی نے تصفیے پر رضامندی ظاہر کی۔ مونٹریال کی عدالت میں کیوبیک کے جج سائمن لاووائے نے اس معاہدے کی منظوری دی، جس کے تحت ہر الزام پر 15 ہزار 625 ڈالر سے 18 ہزار 150 ڈالر تک جرمانہ اور عدالتی اخراجات شامل ہیں۔
یہ مقدمہ 2021 میں کیوبیک کے صارف تحفظ دفتر کی جانب سے کی گئی چھ ماہ کی تحقیقات کے بعد سامنے آیا۔ تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کینیڈین ٹائر نے اپنی تشہیری مہم میں مصنوعات کی مصنوعی طور پر بڑھائی گئی اصل قیمت ظاہر کر کے صارفین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اشیا بھاری رعایت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔
فروخت کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ متعلقہ مصنوعات شاذ و نادر ہی اس نام نہاد اصل قیمت پر فروخت یا تشہیر کی گئیں۔
کنزیومر پروٹیکشن آفس نے سات مصنوعات کو ہدف بنایا اور اپریل سے اکتوبر 2021 کے دوران کینیڈین ٹائر کے فلائرز، کمپنی کی ویب سائٹ اور مونٹریال کے علاقے میں واقع تین اسٹورز میں ان کی قیمتوں کی جانچ کی۔
فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت کینیڈین ٹائر نے زیرِ تفتیش پانچ مصنوعات کے حوالے سے ذمہ داری تسلیم کی، جن میں ہینکلز اور کیوزینارٹ کے نائف سیٹس، لاگوستینا اور ہیریٹیج کُک ویئر، اور ڈی والٹ کا کورڈلیس ڈرل شامل ہیں۔
جمعے کے روز ای میل کے ذریعے جاری بیان میں کینیڈین ٹائر کے ترجمان نے کہا کہ یہ الزامات پانچ مصنوعات اور پانچ سال قبل کے چھ ماہ کے عرصے سے متعلق ہیں، اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی صارف سے اضافی رقم وصول نہیں کی گئی اور معاملہ اب ختم ہو چکا ہےکینیڈین ٹائر کو یہ جرمانہ اگلے 12 ماہ کے اندر ادا کرنا ہوگا۔