اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا میں جی ایس ٹی (GST) بینیفٹ حاصل کرنے والے شہریوں کو اس بہار ایک مرتبہ اضافی رقم ادا کی جائے گی، جب پارلیمنٹیرینز نے متعلقہ قانون سازی کو تیزی سے منظور کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد کی راہ ہموار کر دی۔
’’کینیڈا گروسرریز اینڈ ایسینشلز بینیفٹ‘‘ نامی اس قانون کو آج شاہی منظوری (رائل اسینٹ) مل گئی، جو اس سے قبل سینیٹ میں آخری ووٹنگ اور گزشتہ ہفتے ہاؤس آف کامنز سے منظور ہو چکا تھا۔
محکمۂ خزانہ کے مطابق اس بینیفٹ کے تحت جی ایس ٹی کریڈٹ حاصل کرنے والے اہل کینیڈین شہریوں کو ایک مرتبہ اضافی ادائیگی کی جائے گی، جو موجودہ کریڈٹ کی مالیت کے 50 فیصد کے برابر ہو گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ رقم ’’اس بہار جلد از جلد‘‘ مستحق افراد کو فراہم کر دی جائے گی تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جی ایس ٹی بینیفٹ کی معمول کی رقم میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ موجودہ بینیفٹ کی مالیت میں جولائی سے شروع ہونے والے آئندہ پانچ برسوں کے لیے 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے افراد اور خاندانوں کو طویل مدت میں مالی سہارا فراہم کرنا ہے۔
حکومت کے مطابق ان اقدامات سے ملک بھر میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد کینیڈین شہری مستفید ہوں گے۔ حکومتی تخمینوں کے مطابق، ایک چار افراد پر مشتمل خاندان کو ان اقدامات کے مجموعی اثر کے نتیجے میں رواں سال زیادہ سے زیادہ 1,890 ڈالر تک کی مدد ملے گی، جبکہ اس کے بعد آنے والے چار برسوں میں انہیں سالانہ تقریباً 1,400 ڈالر کی اضافی معاونت حاصل ہو گی۔
یہ قانون سازی پارلیمنٹ میں غیر معمولی تیزی سے مکمل کی گئی۔ کنزرویٹو پارٹی نے بھی گزشتہ ہفتے ہاؤس آف کامنز میں اس بل کو تیزی سے آگے بڑھانے میں حکومت کی مدد کی اور اس کی حمایت کی، اگرچہ پارٹی نے اس اقدام کو مہنگائی کے مسئلے کا مستقل حل قرار دینے کے بجائے ’’عارضی یا بینڈ ایڈ حل‘‘ کہا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بینیفٹ روزمرہ ضروریات خصوصاً خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں ایک فوری ریلیف فراہم کرے گا۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مدد قلیل مدت میں فائدہ مند ہو سکتی ہے، تاہم طویل المدتی معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے مزید جامع اقدامات کی ضرورت رہے گی۔
اس کے باوجود، حکومت اس فیصلے کو کم آمدنی والے کینیڈین شہریوں کے لیے ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے، جس کا مقصد فوری مالی ریلیف کے ساتھ ساتھ آئندہ چند برسوں کے لیے مستقل اضافی سہولت فراہم کرنا ہے۔