اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا کی پیش کردہ غزہ امن قرارداد نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
چین اور روس نے اس مسودے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ غزہ فلسطینیوں کی سرزمین ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ بھی وہی کریں گے۔چینی مندوب فو کونگ نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ امریکی قرارداد میں فلسطینیوں کے حکمرانی کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے نہ تو مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے اختیارات واضح کیے اور نہ ہی **بورڈ آف پیس** کی تفصیلات فراہم کیں، جس سے شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
روسی مندوب نے بھی امریکا کے منصوبے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں **فلسطینیوں کا مرکزی کردار دبایا گیا ہے ۔ ان کے مطابق یہ فریم ورک غزہ اور مغربی کنارے میں مزید تقسیم پیدا کر سکتا ہے، جو خطے کے امن کے لیے خطرناک ہوگا۔دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جنوبی کوریا اور سلووینیا نے امریکی منصوبے کی حمایت کی ہے، جبکہ ڈنمارک نے تجویز دی ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے کو کسی بھی صورت میں الگ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تقسیم دیرپا امن کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔سلامتی کونسل میں ووٹنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سے متعلق قرارداد 14 ووٹوں کے ساتھ منظور ہوگئی، جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔ امریکی مندوب نے اس موقع پر پاکستان، مصر، قطر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیے اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ادھر حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کی سیاسی خودمختاری کو محدود کرتا ہے اور زمینی حقائق کو نظرانداز کرتا ہے۔