اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)لبرل رکن پارلیمنٹ کریسٹیا فری لینڈ نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ وزیراعظم کی خصوصی نمائندہ برائے یوکرین کی تعمیر نو کے عہدے سے مستعفی ہو رہی ہیں اور آنے والے ہفتوں میں پارلیمنٹ بھی چھوڑ دیں گی۔ یہ اعلان اس کے چند گھنٹوں بعد آیا جب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے انہیں اپنے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے بغیر معاوضے کے مشیر مقرر کیا۔
فریلینڈ نے ایک بیان میں کہا، "یوکرین آج کی عالمی جمہوریت کی لڑائی کے محاذ پر ہے، اور میں صدر زیلنسکی کے لیے اقتصادی مشیر کے طور پر بغیر معاوضے کے کام کرنے کا موقع خوشی سے قبول کرتی ہوں۔”
وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی فریلینڈ کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ یہ کینیڈا کی یوکرین کے لیے مضبوط حمایت کا ثبوت ہے کہ ایک کینیڈیئن اس اہم وقت میں یہ کردار سنبھال رہا ہے۔
تاہم بعض ناقدین نے کہا کہ فریلینڈ کو یوکرین کی حکومت کو مشورہ دینے سے پہلے پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ ٹورنٹو کی کمپنی ہینلے اسٹریٹیجیز کی سی ای او لاریسا ویلر نے کہا کہ فریلینڈ کا یہ اقدام واضح اخلاقی حد کو پار کرتا ہے اور اس سے حکومت پر تنقید کا نیا زاویہ پیدا ہوا ہے۔
ڈیموکریسی واچ کے شریک بانی ڈف کوناچر نے کہا کہ اگرچہ قانونی طور پر یہ ممکن ہے، مگر یہ واضح طور پر مفادات کے تصادم کے زمرے میں آتا ہے۔
یوکرین کی حمایت میں طویل عرصے سے سرگرم فریلینڈ نے کہا ہے کہ ملک کو اقتصادی ترقی کے بڑے مواقع میسر ہو سکتے ہیں، جو سوویت یونین کے بعد ضائع ہو گئے تھے۔ صدر زیلنسکی نے بھی کہا کہ فریلینڈ کی مہارت اقتصادی اصلاحات اور سرمایہ کاری لانے میں انتہائی اہم ہے۔
کریسٹیا فریلینڈ کا یہ تقرر اسی دوران ہوا جب مارک کارنی پیرس میں یوکرین کے لیے اتحادیوں سے ملاقات کر رہے تھے۔ کینیڈا نے ۲۰۲۲ میں روس کی جارحیت کے بعد یوکرین کی مدد کے لیے ۲۳.۵ بلین ڈالر سے زائد فراہم کیے ہیں۔
فریلینڈ حال ہی میں آکسفورڈ میں مقیم "رودس ٹرسٹ” کی سی ای او کے طور پر بھی منتخب ہوئی ہیں اور جولائی سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔