اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی کنزرویٹو پارٹی اور اس کے رہنما پیئر پو لیورکو کیلگری میں منعقد ہونے والے متحد کنونشن کے بعد خاصی سیاسی رفتار حاصل ہوئی ہے، تاہم پارلیمان میں وزیرِاعظم مارک کارنی اور لبرلز کو پیچھے چھوڑنے کے لیے پارٹی کو ابھی خاصا فاصلہ طے کرنا ہوگا۔
کنزرویٹو پارٹی نے اپنا تین روزہ قومی کنونشن گزشتہ روز اختتام پذیر کیا، جس میں پیئر پولی ایو نے اپنی لازمی قیادت کے جائزے (لیڈرشپ ریویو) میں باآسانی کامیابی حاصل کی۔ مندوبین کے 87 فیصد نے ان کی قیادت کی حمایت میں ووٹ دیا۔
معروف پولسٹر نک نینوس کا کہنا ہے کہ پولی ایو کا یہ نتیجہ “خاصا متاثر کن” ہے اور اس سے ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے کہ کنزرویٹو رہنما کو اپنی ہی پارٹی پر مضبوط گرفت حاصل نہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ گزشتہ سال کے آخر میں پارٹی کے دو ارکانِ پارلیمان لبرلز میں شامل ہو گئے تھے۔
نینوس کے مطابق کنونشن سے ایک ہفتہ قبل کیے گئے سروے میں کنزرویٹو پارٹی لبرلز سے چار پوائنٹس پیچھے تھی، تاہم اسی سروے کے مطابق کینیڈین عوام میں پسندیدہ وزیرِاعظم کے طور پر مارک کارنی، پیئر پولی ایو پر 28 پوائنٹس کی واضح برتری رکھتے ہیں۔
نینوس کا کہنا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ پارلیمان میں وفاقی این ڈی پی کے ساتھ زیادہ تعاون کرے اور اس کمزور ہوتی جماعت کو یہ موقع دے کہ وہ لبرلز سے ترقی پسند سوچ رکھنے والے ووٹرز کو اپنی طرف کھینچ سکے۔
دوسری جانب، سابق کنزرویٹو وزیرِاعظم اسٹیفن ہارپر کی مشیر رہنے والی اور اب پبلک افیئرز فرم اوسٹر گروپ کی پارٹنر، امینڈا گالبریتھ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پیئر پولی ایو کو پارلیمان میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے مسئلے کو مسلسل اجاگر کرتے رہنا چاہیے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ معاملہ مارک کارنی اور لبرلز کے لیے ایک “کمزور نکتہ” ثابت ہو سکتا ہے۔