اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ یاستی طاقت کی حد کیا ہے؟
اور آئین کس کی حفاظت کے لیے ہے؟ عدالتِ عظمیٰ نے بچوں کی فحش مواد تک رسائی یا اس کے قبضے پر کم از کم ایک سال قید کی لازمی سزا کو غیر آئینی قرار دیا ہے، جس کے بعد ملک میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر حزبِ اختلاف کے رہنما پیئر پولییُور نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو اس فیصلے "ناتھنڈنگ کلاز” کے ذریعے کالعدم قرار دیں گے۔
یہ پہلا موقع ہو گا کہ وفاقی سطح پر کوئی وزیرِ اعظم آئین کے آرٹیکل 33 کے ذریعے **بنیادی حقوق کو وقتی طور پر معطل کرنے کا اعلان کرے۔ سوال یہ ہے: کیا واقعی بچوں کے تحفظ کے نام پر آئین کو پسِ پشت ڈالنا درست ہے؟
بچوں کا تحفظ: جذبات یا قانون؟
کسی بھی معاشرے میں بچوں کے خلاف جرائم سب سے زیادہ قابلِ نفرت سمجھے جاتے ہیں۔ عوامی جذبات شدید ہوتے ہیں، غصہ فطری ہے۔ اس تناظر میں پولییُور، ڈگ فورڈ، ڈینیئل اسمتھ اور اسکاٹ موئے جیسے رہنماؤں کے بیانات سیاسی طور پر مقبول** ضرور ہیں، مگر کیا قانون سازی محض جذبات کی بنیاد پر ممکن ہے؟
سپریم کورٹ نے صرف یہ کہا ہے کہ ہر کیس ایک جیسا نہیں ہوتا*، اور ایک سال کی لازمی سزا بعض صورتوں میں غیر متناسب اور غیر منصفانہ ہو سکتی ہے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ سزا نہ دی جائے، بلکہ یہ کہ **ججوں کو سزاؤں میں لچک ہونی چاہیے تاکہ ہر ملزم کو حالات کے مطابق سزا ملے۔
ناتھنڈنگ کلاز، خطرناک نظیر؟
آئین کا آرٹیکل 33 اس لیے بنایا گیا تھا کہ جمہوری نمائندے، کسی **انتہائی غیر معمولی** صورت میں عدالت کے فیصلے کو وقتی طور پر معطل کر سکیں۔لیکن اگر یہ شق سیاسی مقبولیت کے لیے استعمال ہونے لگے، تو کل کوئی بھی حکومت آزادیِ اظہار، اقلیتوں کے حقوق، یا احتجاج کے حق کو بھی اسی بنیاد پر معطل کر سکتی ہے۔
کیا حل محض سخت سزائیں ہیں؟
عالمی تحقیق بتاتی ہے کہ سخت سے سخت سزا بھی جرائم کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی جب تک انٹرنیٹ نگرانی، ذہنی صحت کے پروگرام، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیکنالوجی، اور بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت پر بیک وقت کام نہ کیا جائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے جرائم میں AI، انکرپٹڈ ایپس اور ڈارک ویب کے بڑھتے استعمال نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ محض سزا بڑھانے سے یہ نیٹ ورکس ختم نہیں ہوں گے۔
بچوں کا تحفظ ریاست کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ مگر یہ ذمہ داری آئین کو روند کر پوری نہیں کی جا سکتی۔سیاسی لیڈروں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ آئین دشمنوں کا نہیں، شہریوں کا محافظ ہے —اور اسی میں بچوں کا تحفظ بھی شامل ہے۔اگر ہم جذباتی سیاست کے بجائے ثبوت، تحقیق اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر فیصلے نہ کریں، تو آج کی تالیوں کے بدلے کل ہم اپنے بنیادی حقوق کی قیمت چکا رہے ہوں گے۔