اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر عظمی بخاری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست شہری منیر احمد نے معروف وکیل اظہر صدیق کی وساطت سے دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دونوں وزرائے اعلیٰ کے بیانات نے عدالت کے وقار کو متاثر کیا ہے اور یہ عدالتی عمل کی شفافیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ سے متعلق عدالتی حکم پر دئیے گئے بیانات توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق دونوں عہدیداروں نے عدالت کے فیصلے کو متنازعہ بنانے اور سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، جس سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ بیانات میں عدالتی حکم کو "لینڈ مافیا کے حق میں” قرار دینا سنگین الزام ہے، جو عدالتی عمل پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ایسے بیانات سے عدالتی کارروائی کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے اور عوام میں عدلیہ کے فیصلوں کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مریم نواز اور عظمی بخاری کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جائے اور مناسب قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عدلیہ کے وقار اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ درخواست ایسے وقت میں دائر کی گئی ہے جب صوبائی وزراء اور اعلیٰ سیاسی شخصیات کے بیانات اکثر عدالتی فیصلوں کے بارے میں تنازعہ پیدا کر رہے ہیں، جس سے عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔ عدالت میں اس معاملے پر سماعت کا امکان ہے اور اسے سیاسی اور قانونی حلقوں میں توجہ حاصل ہے، کیونکہ یہ نہ صرف وزراء کے رویے بلکہ عدالتی احکام کے عوامی اثرات پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ مریم نواز اور عظمی بخاری کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عدالتی فیصلوں کی حرمت کو برقرار رکھا جا سکے اور مستقبل میں سیاسی شخصیات کو عدالتی عمل میں مداخلت سے روکا جا سکے۔