اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بدعنوانی اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جو معیشت اور اداروں کی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بدعنوانی کے سبب ریاستی اداروں کا کنٹرول کمزور ہوتا ہے، ٹیکس کے نظام کا شفاف استعمال ممکن نہیں رہتا اور مجموعی ٹیکس آمدن متاثر ہوتی ہے۔ قانونی نظام پر عوام کا اعتماد بھی کمزور ہو رہا ہے، جس سے عدالتی معاملات میں تاخیر اور فیصلوں کی سست روی پیدا ہوتی ہے۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ سرکاری کمپنیوں میں بدعنوانی کے اثرات واضح ہیں، جس سے وہ خسارے میں جا رہی ہیں، اور ضرورت سے زیادہ پیچیدہ قوانین اور ضوابط معیشت کی رفتار کو سست کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ٹیکس اور کسٹم اہلکار اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پاتے، جس سے نظامی کمزوریاں بڑھ رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ضرورت سے زیادہ ریگولیشنز اور رکاوٹیں ہر شعبے کی ترقی پر اثر ڈال رہی ہیں۔ اکثر معاملات عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں زیر التوا مقدمات کی کثرت کے باعث فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، اور یہ کاروباری ماحول اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے۔
آئی ایم ایف نے زور دیا کہ نظامی اصلاحات، شفافیت اور موثر حکمرانی پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان اقدامات پر عمل کیا گیا تو ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ، کاروباری ماحول کی بہتری اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔