اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیرِاعظم مارک کارنی جب جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی20 اجلاس کی جانب روانہ ہوئے تو اس سے قبل ان کا متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا دورہ سفارتی تعلقات مضبوط بنانے اور ممکنہ غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے پر مرکوز رہا۔
تاہم کینیڈا میں متعدد حلقوں، خصوصاً انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس دورے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارنی نے سوڈان کی جنگ میں یو اے ای کے مبینہ کردار کا کوئی ذکر نہ کر کے ایک اہم اور حساس موضوع کو نظرانداز کیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق قابلِ اعتماد شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یو اے ای نے سوڈان کے دارفور خطے کی جانب اسلحہ بھیج کر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی، جسے یو اے ای بارہا مسترد کرتا ہے۔
سوڈان کی خانہ جنگی 2023 میں اس وقت شدید ہوئی جب فوج اور نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے طاقت کے حصول کی جنگ شروع کی۔ اس تنازعے نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد جانیں لے لی ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں :حکومت جمعرات کو بڑے منصوبوں کے اگلے مرحلے کااعلان کرے گی، مارک کارنی
سٹی نیوز کی سیاسی رپورٹرنگ پر بات کرتے ہوئے گلین میکگریگر نے میزبان ماریا کیستانے کو بتایا کہ کارنی کا دورہ بظاہر معاشی اور سفارتی تعاون بڑھانے کے لیے اہم تھا، لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات نہ کرنا کینیڈا کی انسانی ہمدردی کی عالمی ساکھ پر سوال اٹھا سکتا ہے۔
میکگریگر نے کہا کہ اگر کینیڈا انسانی حقوق کا عالمی علمبردار بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے اتحادیوں اور پارٹنرز سے بھی ان معاملات پر کھل کر بات کرنی چاہیےانہوں نے کہا کہ یو اے ای کے بارے میں خاموشی کو کئی حلقے ’’سفارتی مصلحت‘‘ قرار دے رہے ہیں، لیکن اس کے طویل المدتی اثرات کینیڈا کی اخلاقی ساکھ پر پڑ سکتے ہیں