اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) حیبرون کے قدیمی شہر میں تاریخی ابراہیمی مسجد پر اسرائیلی فوج کے کرفیو نے ایک بار پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ بند کر کے غیر قانونی آبادکاروں کے لیے اسے کھولنا، نہ صرف مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے بلکہ فلسطینی شہریوں کی بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی بھی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں کئی فلسطینی اپنے گھروں تک واپس نہیں جا سکے اور مجبوراً رشتہ داروں کے یہاں رات گزارنے پر مجبور ہوئے۔ابراہیمی مسجد کی 1994 میں تقسیم کے باوجود اسرائیل نے مسلمانوں کے حصے پر مسلسل قدغنیں لگائی ہیں اور اپنے آپ کو یہاں اکثریتی طاقت کے طور پر منوانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھنے والی اس مسجد کے 63 فیصد حصے کو یہودی عبادت کے لیے مختص کرنا اور مسلمانوں کو ان کے مذہبی مواقع پر مکمل رسائی نہ دینا، صریحاً مذہبی امتیاز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
یہ اقدام نہ صرف فلسطینی عوام کی روزمرہ زندگی اور مذہبی سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ہر سال یہودی تہوار کے موقع پر مسجد پر کنٹرول قائم کرنے کے اقدامات سے فلسطینی شہریوں کی مذہبی، ثقافتی اور تاریخی شناخت پر بھی حملہ ہوتا ہے۔عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کو چاہیے کہ وہ اس طرزِ عمل کی فوری مذمت کریں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ مسلمانوں کو ان کے مذہبی حقوق کی مکمل ضمانت دی جائے اور تاریخی ابراہیمی مسجد کو ایک عبادت گاہ کے طور پر سب کے لیے کھلا رکھا جائے۔ فلسطینی عوام کی زندگی اور ان کی عبادت کی آزادی پر کسی بھی قسم کی قدغن، نہ صرف انسانی ضمیر کے خلاف ہے بلکہ امن و انصاف کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔اس واقعے نے ایک بار پھر یاد دہانی کرائی ہے کہ فلسطینی عوام کی بنیادی حقوق کی حفاظت اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر مستحکم اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔