اردو ورلڈ کینیڈا( ویب نیوز ) لیبیا کے ساحل پر دو کشتیوں کے الٹنے کے واقعات، جن میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے
ایک بار پھر تارکینِ وطن کی خطرناک اور جان لیوا ہجرت کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ 95 غیر قانونی تارکینِ وطن، جو بہتر زندگی کی تلاش میں سمندر پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ایک خستہ حال کشتی میں سوار ہو کر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال بیٹھے۔ ایک کشتی میں بنگلادیش کے 26 افراد تھے، جن میں سے چار جان کی بازی ہار گئے، جبکہ دوسری کشتی میں مصر اور سوڈان کے تارکینِ وطن شامل تھے جنہیں لیبیا کوسٹ گارڈ نے ریسکیو کر لیا۔
یہ المیہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی انسانی بحران کی علامت ہے۔ لیبیا گزشتہ برسوں سے یورپ جانے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم مگر خطرناک راستہ بن چکا ہے، جہاں خستہ حال کشتیوں اور غیر محفوظ سفر کی وجہ سے جانیں ضائع ہونا معمول بن گئی ہیں۔ یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک شدید انتباہ ہے کہ تارکینِ وطن کی حفاظت اور محفوظ راستوں کی فراہمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تارکینِ وطن کی یہ ہلاکتیں محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کا زوال ہیں، جن کے پیچھے غربت، جنگ، سیاسی عدم استحکام اور معاشرتی ناانصافی کا ہاتھ ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایسے افراد کے لیے محفوظ راستے فراہم کرے، تاکہ کوئی بھی انسان زندگی کے بہتر مواقع کے حصول کے لیے اپنی جان کے خطرے میں نہ ڈالے۔
یہ حادثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی ہمدردی اور عالمی تعاون کے بغیر تارکینِ وطن کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ہر ملک، ہر ادارہ اور ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس المیے کو صرف خبریں پڑھ کر نہ گزارے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے زندگیوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے۔