اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان میں نجی اسکولوں کے لوگو والی نوٹ بکس، ورک بکس اور یونیفارم کی مشروط فروخت کے حوالے سے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ کمیشن نے ملک کے 17 بڑے نجی اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں، جن میں بیکن ہاؤس، لاہور گرامر اسکول، دی سٹی اسکول، ہیڈ اسٹارٹ، فروبلز، روٹس انٹرنیشنل، کے آئی پی ایس، الائیڈ اسکولز، سپرنوا، دارارقم، اسٹپ اسکول، ویسٹ منسٹر، یونائیٹڈ چارٹرڈ اسکول اور دی اسمارٹ اسکول شامل ہیں۔
کمیشن کی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ اسکول سسٹمز اپنے طلبہ اور والدین کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اسکول کے منتخب کردہ وینڈرز یا مخصوص دکانوں سے مہنگے اسٹیشنری اور یونیفارمز خریدیں۔ والدین کے پاس کھلے بازار سے سستی متبادل خریدنے کا اختیار نہیں ہوتا۔
انکوائری کے مطابق کئی اسکولوں میں اسٹڈی پیکس اور یونیفارمز آن لائن پورٹلز یا مخصوص دکانوں کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں، اور قیمتیں عام مارکیٹ کے مقابلے میں 280 فیصد تک زیادہ پائی گئی ہیں۔ اس سے چھوٹے اسٹیشنری فروش اور یونیفارم بنانے والے کاروبار متاثر ہوتے ہیں، اور اسکول اپنی مارکیٹ طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔
کمیشن نے بتایا کہ یہ عمل مشروط فروخت کہلاتا ہے اور کمپٹیشن کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ والدین کی طرف سے اسکول تبدیل کرنے پر زیادہ لاگت، محدود تعلیمی متبادل اور سفر کی مشکلات کے باعث طلبہ مجبور ہو کر اسکول کی شرائط پر عمل کرتے ہیں، جس سے وہ ‘یرغمال صارفین’ بن جاتے ہیں۔
نجی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد مجموعی انرولمنٹ کا تقریباً نصف ہے، اور مہنگے برانڈڈ اسٹڈی پیکس اور یونیفارمز والدین پر اضافی مالی دباؤ ڈال رہے ہیں۔
کمیشن نے تمام اسکولوں کو 14 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں وہ سالانہ ٹرن اوور کا 10 فیصد یا 7.5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔