اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر جی 7 ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگی صورتحال میں شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنانا فوری طور پر بند کیا جائے
یہ مطالبہ پیرس میں ہونے والے جی 7 وزرائے خارجہ کے ایک اہم اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا۔ اجلاس میں جی 7 کے رکن ممالک کے علاوہ سعودی عرب، برازیل، جنوبی کوریا، بھارت اور یوکرین کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ تنازع کے دوران شہریوں، علاقائی شراکت داروں اور اہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کو کم سے کم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جی 7 ممالک نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت شہری آبادی کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے، اس لیے فوری طور پر ایسے حملے روکے جائیں۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزاد اور محفوظ نقل و حرکت پر بھی زور دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کو ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک رکھنا ضروری ہے، اور اس میں "ٹول فری” (بلا معاوضہ) آمدورفت کو یقینی بنایا جائے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی جنگ بندی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے انہیں یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔امریکی حکام کی جانب سے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ ایران اپنے فوجی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر توانائی کی سپلائی لائنز اور بین الاقوامی تجارت اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔عالمی برادری نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری جنگ بندی کے لیے سنجیدہ مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔