اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے
جہاں ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ مختلف غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات میں تعینات امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ذرائع کے مطابق ان حملوں میں مبینہ طور پر 37 امریکا کے فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ابتدائی رپورٹس اکثر متضاد ہو سکتی ہیں۔
اسی دوران خلیج فارس میں ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، جسے بعض ذرائع نے اسرائیل سے منسلک قرار دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ خلیج فارس عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔تاحال اسرائیل یا امریکا کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے بھی اس حوالے سے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں مصدقہ معلومات کا انتظار کرنا ناگزیر ہے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔ماہرین نے زور دیا ہے کہ ایسی حساس صورتحال میں غیر تصدیق شدہ خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کیا جائے اور صرف مستند ذرائع پر انحصار کیا جائے، کیونکہ غلط اطلاعات سے عوام میں بے چینی اور خوف میں اضافہ ہو سکتا ہے۔