اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری نے ایک بار پھر انسانی ہمدردی کی تمام حدیں پامال کر دیں۔
جنگ بندی کے باوجود، گزشتہ حملوں میں 22 فلسطینی بے گناہ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 80 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔ ریمل، دیر البلا اور نصیرت کیمپ جیسے گنجان آباد علاقوں میں معصوم شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈال کر کیے جانے والے یہ حملے انسانی تاریخ کی سب سے تاریک داستانوں میں شامل ہیں۔یہ حملے صرف فلسطینی عوام پر جبر اور ظلم نہیں، بلکہ عالمی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان بھی ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے اپنی کارروائیوں کو بعض الزامات کے تناظر میں جائز قرار دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر معصوم شہری جس کی زندگی کے خواب تباہ ہو رہے ہیں، ایک انسانی المیہ ہے۔ بچوں، خواتین اور بزرگوں کی زندگی کو نشانہ بنانا کسی بھی جواز میں آتا ہے، اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
حماس نے بارہا اعلان کیا کہ وہ جنگ بندی کے پابند ہے، اور اسرائیل کی یکطرفہ جارحیت معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ عالمی برادری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خاموش نہ رہے، اور نہ صرف الزامات پر مبنی بیانات سننے کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ ثالثوں اور امریکہ سمیت تمام ذمے دار فریقوں پر یہ لازم ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کو بحال کریں اور معصوم شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
غزہ کے لوگ، جن کی زندگیوں میں روز بروز خوف اور تباہی کا سایہ بڑھتا جا رہا ہے، صرف یہ امید کرتے ہیں کہ دنیا ان کی درد بھری آواز کو سنے گی۔ انسانی حقوق کی پاسداری، امن اور انصاف کا تقاضا ہے کہ آج کے اس ظلم کے خلاف عالمی سطح پر واضح موقف اختیار کیا جائے۔ ورنہ، انسانیت کے ضمیر کی یہ آزمائش روز بروز اور خونخوار ہوتی جائے گی۔غزہ کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے، اور یہ وقت ہے کہ دنیا یہ ثابت کرے کہ انسانی جان سب سے بڑی قدر ہے۔