اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے
جس کے نتیجے میں ایک 11 سالہ بچی سمیت کم از کم 4 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں اور شہداء میں بڑی تعداد بچوں کی بتائی جا رہی ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔تفصیلات کے مطابق 11 سالہ لڑکی **ہمسہ ہوسو کو جبلیہ پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہمسہ کا خاندان جنگ بندی کے بعد اعلان کردہ حفاظتی زون میں واپس آ چکا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں کسی قسم کی جھڑپ یا مزاحمتی سرگرمی موجود نہیں تھی، اس کے باوجود اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں معصوم بچی موقع پر ہی شہید ہو گئی۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کا معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ، فضائی حملوں اور بارودی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک سینکڑوں فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق شہری علاقوں میں اسرائیلی فائرنگ اور فضائی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں، جس کے باعث عام شہری، خصوصاً بچے، شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں گھروں، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گاہوں سمیت سول انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
ادھر انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی کارروائیوں کا نوٹس لے اور غزہ میں نہتے شہریوں، بالخصوص بچوں، کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔غزہ کے عوام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود انہیں نہ تو امن میسر ہے اور نہ ہی تحفظ، اور روزانہ کی بنیاد پر ہلاکتوں اور زخمیوں کی خبریں ان کی زندگیوں کو مزید اجیرن بنا رہی ہیں۔