اردوورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی فعال سفارتکاری کو عالمی سطح پر اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے
بھارت میں بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے اپنی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید سامنے آئی ہے۔پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں شہباز شریف اور سید عاصم منیر کی قیادت میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیشرفت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی، جسے خطے میں استحکام کی جانب مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی عندیہ دیا کہ اگر ایران پر حملے روکے گئے تو وہ بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دے گا۔ اس کے ساتھ آبنائے ہرمز میں محدود مدت کے لیے محفوظ بحری راستہ فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی گئی۔دوسری جانب بھارتی میڈیا اور تجزیہ کاروں میں اس پیشرفت پر ملے جلے ردعمل دیکھنے میں آئے۔ بعض مبصرین نے نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان سفارتی میدان میں زیادہ فعال نظر آ رہا ہے۔
ایک بھارتی تجزیہ کار نے 2016 کے اڑی حملہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد بھارت نے سخت مؤقف اپنایا تھا، لیکن اب علاقائی سفارتکاری میں بھارت کا کردار کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ایران کے خلاف کارروائی عارضی طور پر روکنے کا اعلان سامنے آیا، جسے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو پاکستان خطے میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھر سکتا ہے، جو مستقبل میں بھی اہم سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔