اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ایڈمونٹن کے میونسپل انتخابات میں تین ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے اور شہر کے چھوٹے کاروباری افراد میئر کے امیدواروں سے اپیل کر رہے ہیں کہ ان کے مسائل کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ چائنہ ٹاؤن میں کاروبار کرنے والے ایک تاجر کا کہنا ہے کہ جو بھی نیا میئر منتخب ہو، وہ جرائم پر قابو پانے پر توجہ دے۔
ہانگ کانگ بیکری کے مالک چِپ ٹینگ کہتے ہیں کہ اگرچہ اب جرائم پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے لیکن واقعات میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تین سال پہلے قریبی علاقے میں دو افراد ایک بلاوجہ حملے میں قتل ہوئے تھے اور اب بھی علاقے میں جرائم اور بے گھری کے مسائل موجود ہیں۔
یہ خبریھی پڑھیں: الیکشن، البرٹا میں کاٹنے دار مقابلے متوقع ،لبرلز کو پانچ سے 12 سیٹوں پر جیت کی امید
ٹینگ کے مطابق جرائم زیادہ تر معمولی نوعیت کے ہیں جیسے شیشے توڑ دینا یا گاڑیوں کے شیشے چکناچور کرنا، لیکن اس سے کاروبار متاثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک اور بڑی پریشانی یہ ہے کہ سٹی انتظامیہ علاقے میں سماجی ادارے قائم کرنے یا سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی تعمیر کے بارے میں کاروباری افراد سے مشورہ نہیں کرتی۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 98 اسٹریٹ پر فٹ پاتھ چوڑا کرنے اور بس لین بنانے سے پارکنگ کی جگہ کم ہوگئی ہے جس سے کاروباری مالکان کو نقصان ہو رہا ہے۔ "ہمیں چوڑے فٹ پاتھ کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں اتنے پیدل چلنے والے نہیں ہیں۔
کینیڈین فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ بزنس (CFIB) کے مطابق البرٹا کے 70 فی صد سے زیادہ چھوٹے کاروباری افراد سمجھتے ہیں کہ ان کی بلدیہ ان کے مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتی، جب کہ تقریباً 60 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کمرشل پراپرٹی ٹیکس کے بدلے مناسب سہولتیں حاصل نہیں کرتے۔
CFIB کی نمائندہ کیلی لیپکی نے کہا کہ ایڈمونٹن کے کاروباری افراد بھی باقی شہریوں کی طرح انہی مسائل کا شکار ہیں۔ "بلدیاتی اخراجات کو کنٹرول میں رکھنا اور ٹیکس کو معقول بنانا، یہ بڑے مطالبات ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ تعمیراتی کام ہے، جس نے شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً اسٹونی پلین روڈ پر کاروباریوں کو شدید متاثر کیا ہے