اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ قازقستان نے باضابطہ طور پر اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدے (Abraham Accords) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا گیا، جس میں قازقستان کے صدر بھی شریک تھے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ قازقستان ان کے دوسرے دورِ صدارت میں ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ٹرمپ نے قازقستان کو “شاندار ملک” اور “با صلاحیت قیادت رکھنے والی قوم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دنیا میں امن، تعاون اور خوشحالی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ “ہم بہت جلد مزید ممالک کو ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوتے دیکھیں گے، جو مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کی بنیاد بنے گا۔”امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے بھی ایک روز قبل اشارہ دیا تھا کہ ایک اور ملک ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان کرنے والا ہے۔خیال رہے کہ ابراہیمی معاہدہ سب سے پہلے سال 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں طے پایا تھا، جس کے تحت اسرائیل نے **متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔قازقستان کی شمولیت کے ساتھ اس معاہدے میں ایک اور مسلم اکثریتی ملک کے شامل ہونے سے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں سیاسی و سفارتی توازن پر بھی گہرے اثرات متوقع ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قازقستان کا یہ قدم نہ صرف امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ اسرائیل کے ساتھ بھی تجارتی و اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھولے گا۔