اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے دورِ صدارت میں چین تائیوان کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تائیوان کے معاملے پر چین کا مؤقف واضح ہے، تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ چینی صدر شی جن پنگ ان کے صدر رہتے ہوئے تائیوان پر حملہ کریں گے۔نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے نزدیک تائیوان چین کا حصہ ہے اور اس حوالے سے چین کے اپنے خیالات اور دعوے موجود ہیں، لیکن ان کے خیال میں شی جن پنگ ان کے دورِ صدارت میں فوجی راستہ اختیار نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تائیوان کے بارے میں چین کیا قدم اٹھاتا ہے، یہ مکمل طور پر چینی قیادت کا فیصلہ ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر چین کی جانب سے تائیوان پر کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو امریکا اس پر خوش نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف کسی بھی فوجی اقدام سے گریز کرے گا۔
ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور تائیوان کا مسئلہ کسی بھی صورت میں کشیدگی یا تصادم کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق نیو اسٹارٹ معاہدے پر بھی بات کی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا اور روس کے درمیان نیو اسٹارٹ معاہدہ ختم ہو جاتا ہے تو اسے ہونے دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی نئے جوہری معاہدے میں چین کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے یہ ضروری ہے کہ بڑے ممالک ایک ہی فریم ورک میں شامل ہوں، اور چین کو نظر انداز کر کے کوئی مؤثر معاہدہ ممکن نہیں۔واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان نیو اسٹارٹ جوہری معاہدہ 5 فروری کو ختم ہو رہا ہے، جس کے بعد دنیا کی دو بڑی جوہری طاقتوں کے درمیان اس حوالے سے کوئی نیا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔