ورلڈ کپ ویزا پر کینیڈا پہنچے، درجنوں افراد نے پناہ کی درخواست دے دی؛ کینیڈا تارکین وطن کے لیے اتنا پرکشش کیوں ہے؟

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)فیفا ورلڈ کپ کے میچز دیکھنے کے لیے وزٹ ویزے پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اب وہیں رہنے کے لیے سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔ کینیڈین حکام کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران کینیڈا آنے والے بعض غیر ملکی شہریوں نے سیاحتی دورے کو مستقل قیام کی درخواست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچز منعقد ہوئے، جن کے لیے حکام نے تقریباً 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ تاہم ہزاروں درخواستوں میں سے نصف سے زائد مسترد بھی کر دی گئی تھیں، کیونکہ حکام درخواست گزاروں کے سفری مقصد، مالی صورتحال اور واپسی کے امکانات سمیت مختلف عوامل کا جائزہ لیتے ہیں۔

175 افراد نے درخواست دی

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں۔ ان درخواستوں کا جائزہ کینیڈا کے امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان درخواست گزاروں میں کتنے افراد کھلاڑی ہیں یا تماشائی، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق گھانا کے 25 شہریوں جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15،15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد حتمی نہیں اور آنے والے دنوں میں مزید افراد بھی سیاسی پناہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

اسائلم کیوں لیتے ہیں؟

کینیڈا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ سیاسی پناہ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں جنگ، سیاسی عدم استحکام، مذہبی یا نسلی مسائل، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، معاشی مشکلات اور محفوظ مستقبل کی تلاش شامل ہیں۔

بعض افراد اپنے ممالک میں عدم تحفظ، تشدد یا حکومت مخالف سرگرمیوں کے باعث واپسی کو خطرناک سمجھتے ہیں، اس لیے وہ کینیڈا جیسے ممالک میں تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم ہر شخص کو اسائلم خودکار طور پر نہیں ملتا۔ کینیڈین حکام ہر درخواست کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا درخواست گزار واقعی خطرے کا شکار ہے یا نہیں۔

کینیڈا ہی کیوں؟

کینیڈا کو دنیا کے پرکشش ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں لوگ بہتر زندگی، روزگار، تعلیم اور محفوظ ماحول کی وجہ سے آباد ہونا چاہتے ہیں۔

کینیڈا کا امیگریشن نظام نسبتاً منظم سمجھا جاتا ہے اور ملک میں مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے مواقع موجود ہیں۔ یہاں صحت، تعلیم، قانون کی حکمرانی اور سماجی تحفظ کے نظام کو بھی اہم وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ کینیڈا کا رخ کرتے ہیں۔

بہت سے تارکین وطن کے لیے کینیڈا اس لیے بھی پرکشش ہے کیونکہ یہاں مستقل رہائش حاصل کرنے کے بعد شہریت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس سے انہیں طویل مدتی استحکام ملتا ہے۔

ورلڈ کپ ویزا پر انتباہ

کینیڈین حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا راستہ نہیں ہیں۔

حکام کے مطابق وزٹ ویزا صرف محدود مدت کے لیے سفر، سیاحت یا ایونٹ میں شرکت کی اجازت دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس ویزے کو مستقل رہائش کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی درخواست کا فیصلہ قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

درخواستوں کا فیصلہ کیسے ہوگا؟

کینیڈا میں اسائلم کی درخواست دینے والے افراد کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ انہیں اپنے ملک واپس جانے کی صورت میں حقیقی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ متعلقہ ادارے درخواست گزار کے بیانات، دستاویزات اور حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔

اگر حکام مطمئن ہوں کہ درخواست گزار کو واقعی تحفظ کی ضرورت ہے تو اسے کینیڈا میں رہنے کی اجازت مل سکتی ہے، لیکن اگر دعوے کو کمزور یا غیر ثابت شدہ سمجھا جائے تو درخواست مسترد بھی ہو سکتی ہے۔

بڑھتا ہوا رجحان

ماہرین کے مطابق عالمی حالات، معاشی مسائل اور بہتر مستقبل کی خواہش کے باعث ترقی پذیر ممالک کے شہری اکثر کینیڈا جیسے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ بڑے عالمی ایونٹس، جن میں کھیلوں کے مقابلے بھی شامل ہیں، بعض افراد کے لیے بیرون ملک جانے کا موقع بن جاتے ہیں۔

تاہم کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین سب کے لیے یکساں ہیں اور صرف وہی افراد ملک میں رہ سکیں گے جو مقررہ قانونی معیار پر پورا اتریں گے۔ ورلڈ کپ کے بعد سامنے آنے والی یہ درخواستیں بھی اسی قانونی عمل سے گزریں گی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں