اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے ڈسپلن سے متعلق ایک بڑا فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔
انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے ایشیز سیریز کے دوران کھلاڑیوں کی جانب سے کثرت سے شراب نوشی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بورڈ کے مطابق آئندہ بین الاقوامی دوروں، خصوصاً ورلڈکپ کے دوران ٹیم کو سخت نگرانی میں رکھا جائے گا اور کھلاڑیوں پر واضح کرفیو نافذ کیا جائے گا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا میں کھیلی گئی ایشیز سیریز کے دوران انگلش کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق متعدد منفی خبریں منظر عام پر آئیں، جن میں نائٹ کلبز میں دیر تک قیام، حد سے زیادہ شراب نوشی اور عوامی مقامات پر غیر مناسب طرزِ عمل شامل ہے۔ ان واقعات نے نہ صرف ٹیم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ مینجمنٹ اور ای سی بی کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق آئندہ سری لنکا میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے دوران کھلاڑیوں کے لیے سخت کرفیو نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت مخصوص وقت کے بعد ہوٹل سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ ورلڈکپ کے دوران بھی ٹیم کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انگلش میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایشیز سے قبل وائٹ بال کپتان ہیری بروک ایک نائٹ کلب میں شراب نوشی کے بعد جھگڑے میں ملوث ہوئے تھے، جبکہ اوپننگ بلے باز بین ڈوکیٹ آسٹریلیا کے ایک تفریحی مقام پر زیادہ شراب نوشی کے باعث اپنا راستہ بھول گئے تھے۔ اگرچہ ان واقعات پر باضابطہ تادیبی کارروائی سامنے نہیں آئی، تاہم ان خبروں نے بورڈ کو نظم و ضبط کے حوالے سے سخت فیصلے لینے پر مجبور کر دیا۔
ایشیز سیریز میں انگلینڈ کو 1-4 سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ای سی بی نے ٹیم کی مجموعی کارکردگی، فٹنس اور ڈسپلن پر ازسرِنو غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ میدان سے باہر کے رویے نے بھی ٹیم کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالا، اسی لیے اب "زیرو ٹالرنس پالیسی” اپنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، برطانوی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ای سی بی کے سخت فیصلوں کے نتیجے میں انگلینڈ کے ہیڈ کوچ برینڈن میک کلم کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق اگر ٹیم میں نظم و ضبط اور نتائج میں بہتری نہ آئی تو کوچنگ سیٹ اپ میں بڑی تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں، تاہم اس حوالے سے بورڈ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید کرکٹ میں پروفیشنلزم ناگزیر ہو چکا ہے اور انگلینڈ جیسے بڑے کرکٹ ملک کے لیے کھلاڑیوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق اگر ای سی بی کے یہ سخت فیصلے مؤثر انداز میں نافذ ہو گئے تو اس سے نہ صرف ٹیم کا امیج بہتر ہوگا بلکہ آئندہ بڑے ایونٹس میں کارکردگی پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔