اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اکنامک سروے کی دستاویز کے مطابق ملک کی معیشت کے مختلف شعبہ جات میں مقررہ اہداف اور حاصل شدہ شرحِ نمو کے درمیان واضح فرق دیکھا گیا ہے، جہاں بعض شعبوں نے بہتر کارکردگی دکھائی وہیں کئی اہم شعبے ہدف سے پیچھے رہے۔
زرعی شعبے کے لیے ترقی کا ہدف چار اعشاریہ پانچ فیصد رکھا گیا تھا جبکہ حقیقی شرح نمو دو اعشاریہ آٹھ فیصد رہی۔ فصلوں کے شعبے میں ہدف تین اعشاریہ پانچ فیصد تھا لیکن شرح نمو دو اعشاریہ چار فیصد تک محدود رہی۔ لائیو اسٹاک کے شعبے میں ہدف چار اعشاریہ دو فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح تین اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ ہوئی۔
جنگلات کے شعبے میں ہدف تین اعشاریہ پانچ فیصد کے مقابلے میں شرح نمو دو فیصد رہی۔ ماہی گیری کے شعبے میں تین فیصد کے ہدف کے مقابلے میں شرح نمو ایک اعشاریہ چھ فیصد رہی۔ صنعتی شعبے میں چار اعشاریہ تین فیصد کے ہدف کے مقابلے میں شرح نمو تین اعشاریہ پانچ فیصد ریکارڈ ہوئی۔
پیداواری شعبے نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی جہاں ہدف چار اعشاریہ سات فیصد تھا لیکن شرح نمو چھ اعشاریہ چھ فیصد رہی۔ بڑی صنعتوں میں بھی ہدف سے زیادہ بہتری دیکھنے میں آئی اور شرح نمو تین اعشاریہ پانچ فیصد کے ہدف کے مقابلے میں چھ اعشاریہ ایک فیصد رہی۔ چھوٹی صنعتوں میں ہدف آٹھ اعشاریہ نو فیصد تھا جبکہ شرح نمو آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد رہی۔
بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور اس شعبے میں منفی شرح نمو یعنی تقریباً دس فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ ہدف تین اعشاریہ پانچ فیصد تھا۔ تعمیرات کے شعبے میں ہدف تین اعشاریہ آٹھ فیصد کے مقابلے میں پانچ اعشاریہ سات فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی جو ایک مثبت رجحان ہے۔
خدمات کے شعبے میں ہدف چار فیصد تھا جبکہ شرح نمو چار اعشاریہ صفر نو فیصد رہی۔ تھوک و پرچون کے شعبے میں ہدف تین اعشاریہ نو فیصد کے مقابلے میں تین اعشاریہ سات فیصد رہا۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کارکردگی کمزور رہی اور شرح نمو دو اعشاریہ تین فیصد ریکارڈ ہوئی۔ ہوٹل اور خوراک کے شعبے میں ہدف چار اعشاریہ ایک فیصد تھا جبکہ شرح نمو تین اعشاریہ نو فیصد رہی۔
مواصلات اور معلومات کے شعبے میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور شرح نمو سات اعشاریہ پانچ فیصد رہی جو ہدف سے زیادہ ہے۔ مالیاتی اور بیمہ کے شعبے میں کارکردگی انتہائی کمزور رہی اور شرح نمو محض صفر اعشاریہ تین دو فیصد رہی۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں تین اعشاریہ چھ فیصد ترقی ریکارڈ ہوئی جبکہ ہدف چار اعشاریہ دو فیصد تھا۔ تعلیمی شعبے میں بہتری دیکھنے میں آئی اور شرح نمو پانچ اعشاریہ دو فیصد رہی۔
سماجی شعبے میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں شرح نمو چھ اعشاریہ آٹھ فیصد رہی۔ نجی شعبے میں ترقی کی رفتار کم ہو کر تین اعشاریہ چھ فیصد رہی۔
زرعی پیداوار کے حوالے سے گندم کی پیداوار میں چار اعشاریہ تین فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار تقریباً دو کروڑ چھانوے لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ چاول کی پیداوار دو اعشاریہ آٹھ فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً ایک کروڑ ٹن ریکارڈ ہوئی جبکہ گنے کی پیداوار میں چھ اعشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا۔ مکئی اور کپاس کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی جبکہ چنے کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
لائیو اسٹاک کے شعبے میں بھی اضافہ جاری رہا اور ملک میں بھینسوں، گائے بیل، بھیڑ بکریوں اور دیگر مویشیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ مجموعی طور پر معیشت کے بعض شعبوں نے توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی تاہم کئی اہم شعبے اب بھی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔