اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران میں جاری جنگ کے اثرات اب مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اس کے گہرے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
خاص طور پر کینیڈا کے مغربی علاقوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے ٹرک ڈرائیوروں اور مال برداری کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
البرٹا سے تعلق رکھنے والے ایک ٹرک ڈرائیور پرم پونی، جو بڑے تجارتی اداروں کے لیے سامان کی ترسیل کرتے ہیں، نے بتایا کہ اب ایک بار ٹینک بھرنے پر انہیں تقریباً بائیس سو ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں، جبکہ برٹش کولمبیا میں یہ لاگت اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث کئی ڈرائیور اس پیشے کو چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب انہیں یہ کام چھوڑنا پڑے، کیونکہ موجودہ حالات میں انہیں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر وہ کسی کمپنی کے لیے ملازمت اختیار کر لیں تو انہیں ایندھن جیسے اخراجات کی فکر نہیں ہوگی۔
کیلگری کے ٹرک اڈوں پر پیر کے روز ڈیزل کی قیمت تقریباً دو اعشاریہ دو صفر ڈالر فی لیٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی سطح پر رسد کے دباؤ کے باعث بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ شمالی امریکہ میں ایندھن کی قلت نہیں، لیکن دنیا کے دیگر حصوں میں پیدا ہونے والی کمی نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
مال برداری کی کمپنیاں بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی کے سربراہ نے بتایا کہ پہلے وہ تیس دن کی مکمل قیمت کی ضمانت دیتے تھے، مگر اب اسے کم کر کے صرف سات دن کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے صارفین پر معمولی اضافہ منتقل کیا ہے، مگر وہ کوشش کر رہے ہیں کہ حالات میں استحکام برقرار رکھا جائے۔
پیٹرولیم کے ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں قیمتوں میں کمی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے، جس کے باعث قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
مزید برآں، عالمی سیاسی کشیدگی اور سخت بیانات بھی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر ایندھن کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں فی لیٹر قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ٹرک ڈرائیوروں کے لیے یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کمپنیوں کی جانب سے ایندھن کے لیے مناسب معاونت فراہم نہ کی گئی تو بہت سے خود مختار ڈرائیور سڑکوں سے غائب ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔