اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے انٹرنیٹ کی مکمل بندش کے باعث پیدا ہونے والے
شدید اطلاعاتی بحران کے دوران ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے غیر معمولی اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایران میں اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس مفت فراہم کر دی ہے۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر آزادیٔ اظہار اور معلومات تک رسائی کے تناظر میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس نے ایران میں پہلے سے موجود مگر غیر فعال اسٹارلنک اکاؤنٹس کو دوبارہ فعال کر دیا ہے، جب کہ ایرانی صارفین سے وصول کی جانے والی سبسکرپشن فیس بھی عارضی طور پر معاف کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو براہِ راست سیٹلائٹ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران میں شدید احتجاج، سیکیورٹی کارروائیوں اور مبینہ ہلاکتوں کے باوجود انٹرنیٹ بندش کے باعث درست اور آزاد معلومات کا حصول ممکن نہیں رہا تھا۔ ایسے میں اسٹارلنک کے ذریعے ایک متبادل مواصلاتی راستہ کھولا گیا تاکہ عوام دنیا سے رابطہ بحال کر سکیں اور حقیقی صورتحال عالمی برادری تک پہنچ سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی بدولت ایران کے متعدد شہروں اور دور دراز علاقوں میں رابطے بحال ہو چکے ہیں۔ شہری سوشل میڈیا، میسجنگ ایپس اور بین الاقوامی میڈیا سے دوبارہ جڑنے لگے ہیں، جس سے اطلاعات کی ترسیل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے بعض علاقوں میں اسٹارلنک سگنلز کو محدود کرنے کے لیے جیم کرنے والے آلات نصب کیے، تاہم اس کے باوجود بیشتر مقامات پر صارفین کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل رہی۔ ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بلاک کرنا روایتی نیٹ ورکس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
یہ اقدام ایرانی عوام کے لیے ایک بڑے سہارا کے طور پر سامنے آیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سرکاری اور نجی سطح پر فراہم کی جانے والی روایتی انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں اور مواصلاتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔رپورٹس کے مطابق اسٹارلنک کی مفت فراہمی کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ اس گفتگو میں ایران کی موجودہ صورتحال، انسانی حقوق، اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے مواصلاتی سہولت فراہم کرنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا تھا۔سیاسی اور ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق ایلون مسک کا یہ اقدام نہ صرف تکنیکی اعتبار سے اہم ہے بلکہ اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات بھی دور رس ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ایران میں اطلاعاتی کنٹرول کے بیانیے کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔