اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سال 2025 اسمارٹ فونز کے حوالے سے صارفین کے لیے کافی مصروف اور دلچسپ رہا
لیکن اس کے ساتھ ہی کئی ڈیوائسز کے لیے اپ ڈیٹس روکنے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ موبائل فونز اور دیگر اسمارٹ ڈیوائسز کی دنیا میں اپ ڈیٹس نہ صرف نئے فیچرز اور فنکشنز کے لیے اہم ہوتی ہیں بلکہ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی لازمی ہیں۔ اس سال کئی معروف کمپنیوں نے پرانی ڈیوائسز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کیا، جس سے صارفین کے درمیان تشویش پھیل گئی۔
ایل جی کے موبائلز کی اپ ڈیٹس کا اختتام
جن میں سب سے نمایاں کمپنی ایل جی تھی۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی مضبوط موجودگی کے باوجود، ایل جی نے خراب سیلز کی وجہ سے 2021 میں موبائل فونز کی پیداوار بند کر دی تھی۔ اس کے بعد بھی صارفین کے لیے سیکیورٹی اپ ڈیٹس جاری رکھی گئی تھیں تاکہ پرانے صارفین محفوظ رہ سکیں اور ڈیوائسز کی فعالیت متاثر نہ ہو۔ تاہم، جون 2025 تک یہ سپورٹ برقرار رہی اور 30 جون کو ایل جی نے سرکاری طور پر اپنے اپ ڈیٹس کے سرورز کو بند کر دیا۔
اس فیصلے کے بعد ایل جی کے پرانے موبائلز مزید کوئی نیا سیکیورٹی اپ ڈیٹ یا فیچر حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صارفین کے لیے ایک خطرہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ موبائل کی پرانی سافٹ ویئر میں سیکیورٹی کی خامیاں وقت کے ساتھ زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں۔
صارفین کی تشویش اور ردعمل
ایل جی کے صارفین نے سوشل میڈیا اور فورمز پر اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا۔ کئی صارفین نے کہا کہ وہ ابھی بھی پرانے فونز استعمال کر رہے ہیں اور اپ ڈیٹس کی بندش سے انہیں خدشہ ہے کہ ان کی ذاتی معلومات خطرے میں آ سکتی ہیں۔ دیگر صارفین نے کہا کہ وہ اب نئے فونز خریدنے پر مجبور ہوں گے تاکہ جدید فیچرز اور سیکیورٹی اپ ڈیٹس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فطری عمل ہے کیونکہ کمپنیاں وقت کے ساتھ پرانی ڈیوائسز کے لیے سپورٹ ختم کر دیتی ہیں تاکہ وسائل کو نئے ماڈلز اور جدید سافٹ ویئر پر مرکوز کیا جا سکے۔ تاہم، صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس نوعیت کی تبدیلیوں کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں اور اپنے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے جدید سافٹ ویئر اور ڈیوائسز استعمال کریں۔
دیگر کمپنیوں کی اپ ڈیٹ بندشایل جی کے علاوہ، دیگر معروف کمپنیوں نے بھی پرانی ڈیوائسز کے لیے اپ ڈیٹس روک دی ہیں۔ مثال کے طور پر، سونی، ہواوے، اور ایپل نے بھی اپنے کچھ پرانے فون ماڈلز کے لیے اپ ڈیٹ سپورٹ ختم کر دی ہے۔ ایپل نے 2017 میں جاری ہونے والے آئی فون ماڈلز کے لیے سیکیورٹی اپ ڈیٹس کی سپورٹ محدود کر دی، جس کا مطلب ہے کہ یہ ڈیوائسز اب جدید ایپس اور سافٹ ویئر فیچرز کو مکمل طور پر سپورٹ نہیں کر سکیں گے۔
ہواوے اور سونی نے بھی پرانی ڈیوائسز کے لیے اپ ڈیٹس کے حوالے سے محدود پالیسی اختیار کی۔ صارفین کے لیے یہ معلومات بہت ضروری ہیں کیونکہ اپ ڈیٹس کے بغیر ڈیوائسز پر نئے سیکیورٹی خطرات اور ایپس کی غیر مطابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں تبدیلی کے اثرات
سال 2025 میں اپ ڈیٹس کے اختتام نے یہ واضح کر دیا کہ اسمارٹ فونز کی دنیا میں جدت اور رفتار بہت تیز ہے۔ کمپنیاں صارفین کو جدید فیچرز اور بہتر سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پرانی ڈیوائسز کو محدود کر دیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین کو ہر چند سال بعد اپنے ڈیوائسز کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ وہ ہر چند سال بعد جدید ڈیوائسز میں منتقل ہوں اور پرانے فونز کے ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے منتقل کریں۔ اس سے نہ صرف سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
صارفین کے لیے مشورے
1. اپنے فونز کی سپورٹ کی مدت جانیں:
صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنی ڈیوائسز کی اپ ڈیٹ سپورٹ کے بارے میں معلومات حاصل کریں تاکہ وہ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کر سکیں۔
2. ڈیٹا بیک اپ کریں:
پرانی ڈیوائسز کے لیے اپ ڈیٹس بند ہونے سے پہلے ڈیٹا کا باقاعدہ بیک اپ لینا ضروری ہے۔
3. جدید سیکیورٹی اپلیکیشنز کا استعمال:
نئے فیچرز اور سیکیورٹی اپڈیٹس نہ ہونے کی صورت میں صارفین کو جدید اینٹی وائرس اور حفاظتی ایپس استعمال کرنی چاہیے۔
4. آگے کی منصوبہ بندی کریں:
مستقبل میں کسی بھی مسئلے سے بچنے کے لیے نئے فونز خریدنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔سال 2025 نے صارفین کے لیے یہ پیغام دیا کہ ٹیکنالوجی میں جدت اور ترقی کا عمل تیز رفتار ہے اور پرانی ڈیوائسز کی حمایت محدود ہو سکتی ہے۔ ایل جی کی مثال اور دیگر کمپنیوں کے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اپ ڈیٹس کی بندش اب ایک عام رجحان بن گیا ہے۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس تبدیلی کے مطابق اپنی ٹیکنالوجی استعمال کی حکمت عملی تیار کریں تاکہ نئے خطرات اور چیلنجز کا سامنا بغیر کسی نقصان کے کیا جا سکے۔