اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ
ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کو جلد ختم کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم وہ اس عمل کو آبنائے ہرمز کھولے بغیر ہی مکمل کرنا چاہتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو واضح ہدایات دی ہیں کہ جنگ کے خاتمے کو ترجیح دی جائے، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے جیسے پیچیدہ اور حساس آپریشن کو بعد کے مرحلے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، اور اس کی بندش یا کھلنے سے عالمی معیشت پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ فی الوقت سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے پسِ پردہ رابطے بھی جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں عندیہ دیا تھا کہ وہ "نئے لوگوں” کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جو بقول ان کے ماضی کے مقابلے میں زیادہ معقول اور سنجیدہ رویہ رکھتے ہیں۔دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے، اور ایران نے امریکا کی بعض تجاویز پر ابتدائی طور پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ہم اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز جلد نہ کھولی گئی تو امریکہ ایران کے بجلی گھروں، تیل کے ذخائر اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس بیان کو خطے میں کشیدگی بڑھانے والا قرار دیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف سخت بیانات اور دوسری طرف مذاکرات کی بات، ٹرمپ انتظامیہ کی "دباؤ اور سفارتکاری” (Pressure and Diplomacy) کی مشترکہ حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف ممکنہ جنگ ٹل سکتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کی نئی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے، تاہم عالمی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ کسی بھی فیصلے کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔