اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اونٹاریو پروونشل پولیس کی ایک کریمنل تفتیش میں یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ ٹورنٹو پولیس کے ان تین افسران کے درمیان کسی قسم کی سازش یا مل کر جھوٹ بولنے کے شواہد نہیں ملے جنہوں نے قتل کے مقدمے میں اہم گواہی دی تھی۔ یہ تفتیش اس کیس سے متعلق تھی جس میں عمر زمیّر کو ڈیٹیکٹیو کانسٹیبل جیفری نورتھروپ کی موت کے مقدمے میں بری کر دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ یکم جولائی دو ہزار اکیس کو ٹورنٹو سٹی ہال کے زیر زمین پارکنگ میں پیش آیا تھا، جہاں نورتھروپ ایک گاڑی کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے تھے۔ عمر زمیّر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ سادہ لباس میں موجود افراد پولیس افسر ہیں، اور وہ اپنے بچے اور حاملہ بیوی کو ایک ممکنہ ڈکیتی سے بچانے کے لیے گھبراہٹ میں وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ ان کی گاڑی سے نورتھروپ کو ٹکر لگی ہے۔
او پی پی کی پچپن صفحات پر مشتمل آزاد رپورٹ، جو منگل کے روز ٹورنٹو پولیس سروس کی جانب سے جاری کی گئی، اس وقت شروع کی گئی تھی جب مقدمے کی نگرانی کرنے والی جج نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ تین گواہ افسران ممکنہ طور پر اپنی شہادتوں میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ ان افسران نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
تفتیش میں اصل مقدمے کے دوران ہونے والی کارروائی، افسران کے بیانات اور ممکنہ بدانتظامی کا جائزہ لیا گیا۔ عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات میں یہ بھی شامل تھا کہ آیا دو افسران نے نورتھروپ کی پوزیشن کے بارے میں غلط بیانی کی، گرفتاری کے دوران ہتھیار نکالنے کے حوالے سے جھوٹ بولا، یا تینوں افسران نے واقعے سے متعلق نوٹس اور بیانات میں ساز باز کی۔
او پی پی کی رپورٹ کے مطابق ٹائم لائن کے جائزے سے یہ سامنے آیا کہ افسران کے درمیان رابطے کے مواقع بہت محدود تھے اور ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہوں نے واقعے کے بارے میں آپس میں مشاورت یا معلومات کا تبادلہ کیا ہو۔ آزاد گواہوں نے بھی اس طرح کے کسی رابطے کی تصدیق نہیں کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ افسران کے بیانات میں مماثلت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انہوں نے ایک ہی واقعہ دیکھا، نہ کہ اس بات کی کہ انہوں نے مل کر جھوٹ گھڑا ہو۔
تفتیش میں یہ بھی دیکھا گیا کہ آیا ان افسران کے خلاف انصاف میں رکاوٹ ڈالنے یا حلفاً جھوٹ بولنے کے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں، تاہم ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ او پی پی نے اپنے حتمی نتیجے میں کہا کہ افسران کے خلاف کسی مجرمانہ فعل کا کوئی معقول جواز نہیں ملا، اس لیے تفتیش کو ختم کر دیا گیا ہے۔