اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈین انگریزی کے فروغ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سرکاری دستاویزات میں حالیہ طور پر برطانوی ہجوں (اسپیلنگ) کے استعمال کے ذریعے دنیا کو غلط پیغام دے رہی ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی کو لکھے گئے ایک خط میں، لسانیات کے پانچ ماہرین اور مدیران کی ایک قومی تنظیم کے نمائندے نے کہا ہے کہ قومی وقار اور خود اعتمادی برقرار رکھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ تحریری مواد میں واضح طور پر کینیڈین اندازِ تحریر اپنایا جائے۔
یہ خط 11 دسمبر کو تحریر کیا گیا اور دی کینیڈین پریس کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض سرکاری دستاویزات، جن میں 2025 کا وفاقی بجٹ بھی شامل ہے، میں برطانوی ہجے استعمال کیے گئے ہیں، مثلاً utilisation، globalisation اور catalyse، جبکہ کینیڈین انداز میں ان کے درست ہجے utilization، globalization اور catalyze ہیں۔
خط کے مطابق، کینیڈا میں کینیڈین ہجے وسیع پیمانے پر اور خاصی یکسانیت کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ یہ انداز کتابوں اور رسائل کی اشاعت، اخبارات، دیگر ذرائع ابلاغ، اور وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ان کی قانون ساز اسمبلیوں میں رائج ہے۔
خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ“اگر حکومتیں ہجوں کے مختلف نظام استعمال کرنا شروع کر دیں تو اس سے یہ ابہام پیدا ہو سکتا ہے کہ آخر کینیڈین ہجے کون سے ہیں۔”ماہرین کے مطابق، کینیڈین ہجے محض زبان کا ایک فنی پہلو نہیں بلکہ ملک کی منفرد قومی شناخت کا ایک اہم جزو ہیں۔
اس خط پر لسانیات کے ممتاز پروفیسرز جے کے چیمبرز، سینڈرا کلارک، اسٹیفن ڈولنگر اور سلی ٹیگلیامونٹے کے دستخط ہیں، جبکہ کینیڈین انگریزی ڈکشنری کے ایڈیٹر اِن چیف جان چیو اور ایڈیٹرز کینیڈا کی صدر کیٹلِن لٹل چائلڈ بھی اس کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔
خط میں وزیراعظم کے دفتر، وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کینیڈین انگریزی کے ہجوں پر ہی قائم رہیں، “جو کہ 1970 کی دہائی سے 2025 تک مسلسل استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔
وزیراعظم کے دفتر نے دی کینیڈین پریس کی جانب سے اس خط پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ ہجے، معیاری کینیڈین انگریزی کا ایک پہلو ہیں، جو انگریزی زبان کی ایک منفرد قومی شکل ہے اور جسے آکسفورڈ انگلش ڈکشنری نے بھی تسلیم کیا ہے۔
خط میں وضاحت کی گئی ہے کہ کینیڈین انگریزی کی تشکیل امریکی انقلاب کے بعد برطانوی وفاداروں (لائللسٹس) کی آبادکاری، اس کے بعد انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور آئرلینڈ سے آنے والی ہجرت، اور یورپی و عالمی اثرات کے نتیجے میں ہوئی۔
مزید کہا گیا ہے کہ آج کینیڈین انگریزی دنیا بھر سے آنے والی ثقافتوں اور عالمی اثرات کی عکاسی کرتی ہے، جو کینیڈا کی متنوع آبادی میں شامل ہیں، اور اس میں مقامی (انڈیجینس) زبانوں کے الفاظ اور تراکیب بھی شامل ہیں۔
خط کے مطابق، معیاری کینیڈین انگریزی دنیا میں انگریزی کی دیگر اقسام کے مقابلے میں منفرد ہے، کیونکہ ایک طرف اس پر امریکا کے جغرافیائی قرب کی تاریخی چھاپ ہے، اور دوسری طرف اس میں امریکی اور برطانوی انگریزی سے الگ پہچانی جانے والی خصوصیات بھی موجود ہیں۔
ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سے کینیڈین الفاظ کو “کینیڈین انداز” میں لکھنے کے بارے میں خاصے جذباتی ہیں، تاہم اس بات پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں کہ اصل کینیڈین ہجے کون سے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کینیڈین اندازِ تحریر نے تاریخی طور پر برطانیہ اور امریکا، دونوں سے اثر قبول کیا ہے۔بعض مواقع پر کینیڈین وہ ہجے اختیار کرتے ہیں جو امریکا یا زیادہ درست طور پر شمالی امریکا میں رائج ہوئے، جبکہ کچھ الفاظ میں وہ برطانوی انداز کو ترجیح دیتے ہیں۔
تاہم، خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کچھ صورتوں میں کینیڈین انگریزی نے کبھی برطانوی ہجے قبول نہیں کیے، جیسے tyre کی بجائے tire اور gaol کی بجائے jail، جبکہ بعض دیگر الفاظ میں امریکی انداز سے گریز کیا جاتا ہے، جیسے check کی بجائے cheque اور maneuver کی بجائے manoeuvreخط کے اختتام پر کہا گیا ہے:
“کینیڈین انگریزی نے یہیں ارتقا پایا اور یہ ہماری ثقافت کا ایک منفرد پہلو ہے۔ یہ ہماری تاریخ اور شناخت کا حصہ ہے۔مزید کہا گیاوفاقی حکومت کی تمام تر ابلاغی سرگرمیوں اور اشاعتوں میں کینیڈین انگریزی کے ہجوں کا استعمال جاری رہنا چاہیے۔ یہ ہماری قومی تاریخ، شناخت اور فخر کا معاملہ ہے۔ آج کے دور میں، یہی سب سے سادہ طریقہ ہے کہ ہم ‘کہنیاں اونچی’ رکھ کر اپنا مؤقف ظاہر کریں۔