اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی فلو اور نزلہ کے کیسز میں اضافہ ہونے لگا ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کینیڈا کو اس سال شدید انفلوئنزا کی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلگری کے پروفیسر اور ایمیونولوجسٹ ڈاکٹر کریگ جینی کے مطابق کیسز کی تعداد زیادہ ہوگی، ہسپتال میں داخلے بڑھیں گے اور کئی مریضوں کے حالات پیچیدہ ہوں گے۔
اس لیے اس فلو سیزن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےڈاکٹر جینی نے کہا کہ البرٹا میں ویکسین کی شرح میں کمی اور H3N2 وائرس کی نئی mutated قسم اس صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
یہ عوامل ایک مثالی طوفان پیدا کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔البرٹا میں فلو شاٹس مفت فراہم کیے جاتے ہیں اور زیادہ تر مراکز میں walk-in سہولت موجود ہے۔
کئی شہری ہر سال ویکسین لگواتے ہیں تاکہ شدید فلو سے بچ سکیں۔ Daniel Gregoire نے بتایا کہ اسکول کے دنوں میں انہیں شدید فلو ہوا تھا، اس لیے وہ ہر سال ویکسین لیتے ہیں۔ دوسری جانب، Wendy Nichols نے کہا کہ وہ اور ان کے بچے فلو سے محفوظ رہتے ہیں اور کبھی ویکسین نہیں لگاتے۔
صحت کے حکام کے مطابق اکتوبر کے آخر سے نومبر کے آغاز تک ۲۵ افراد ہسپتال میں داخل ہوئے، جن میں سے تین کو ICU منتقل کرنا پڑا۔ پبلک ہیلتھ کینیڈا کے اعداد و شمار بھی کیسز میں اضافہ ظاہر کر رہے ہیں۔سابق تجربات نے بھی لوگوں کو ویکسین لینے کی ترغیب دی ہے۔
شدید بیماری کا سامنا کرنے والے شہری اگلے سال لازمی ویکسین لگواتے ہیں تاکہ دوبارہ اتنی تکلیف نہ ہو۔ ڈاکٹر جینی نے کہا کہ اگرچہ H3N2 وائرس کے خلاف ویکسین کمزور ہو سکتی ہے، پھر بھی یہ دیگر فلو وائرس سے اچھی حفاظت فراہم کرتی ہے اور کمیونٹی میں بیماری کی شدت اور اموات کو کم کر سکتی ہے۔
زیادہ لوگ ویکسین لگائیں گے، اتنی ہی صحت کے نظام پر دباؤ کم ہوگا اور البرٹا میں بیماریوں کے اثرات محدود رہیں گے۔