اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 6 اور بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت کی سماعت کی، بشریٰ بی بی اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ سیشن عدالت میں پیش ہوئیں۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے عدالت میں کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی 3 درخواستیں منظور کر لی ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جائے وقوعہ پر بھی موجود نہیں تھے، عدالت نے ان کی عدالتی پروڈکشن کے لیے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
جج نے کہا کہ پروڈکشن رپورٹ کہاں ہے؟ پراسیکیوٹر کمرہ عدالت میں کیوں نہیں ہے؟ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ پولیس جان بوجھ کر پی ٹی آئی بانی کو عدالت میں پیش کرنے کی کوشش نہیں کر رہی۔
فاضل جج نے پی ٹی آئی کے وکلا سے کہا کہ یہ روایت ہے کہ آپ جہاں ہوتے عدالت میں پیش ہوتے۔ ملزم کو عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔
جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کا کہتا ہوں، اگلی تاریخ تک فیصلہ کریں گے کہ سماعت کہاں ہوگی، بشریٰ بی بی کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست کی کیا حیثیت ہے؟
وکیل نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی آڈیو لیکس کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔
بعد ازاں عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 2 جنوری تک توسیع کردی۔