اردوورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پی سی بی نے ہر کھلاڑی پر 50، 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ۔
باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ٹیم کو بھارت سے شکست کے فوری بعد ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق بورڈ حکام نے کھلاڑیوں پر واضح کیا ہے کہ “لاڈ پیار بہت ہو چکا، اب کارکردگی دکھانے پر ہی مالی فوائد حاصل ہوں گے۔ جب اچھی پرفارمنس پر انعام ملتا ہے تو خراب کھیل پر جرمانہ بھی ہونا چاہیے۔”پاکستان ٹیم نے ایونٹ کا آغاز نیدرلینڈز کے خلاف کمزور کارکردگی سے کیا اور شکست سے بال بال بچی، بعد ازاں امریکا کو ہرایا۔ سری لنکن کنڈیشنز اور معیاری اسپن اٹیک کے باعث بھارت کے خلاف بہتر کھیل کی امید تھی مگر ایشیا کپ کی طرح یہاں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
نمیبیا کو شکست دے کر ٹیم نے سپر 8 میں جگہ تو بنالی، تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف میچ بارش کی نذر ہوگیا۔ انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد سیمی فائنل میں رسائی مشکل ہو گئی۔ اگرچہ انگلینڈ نے کیویز کو ہرا کر پاکستان کی امیدیں زندہ کیں مگر سری لنکا کے خلاف معمولی فتح سے رن ریٹ بہتر نہ ہو سکا اور یوں نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں پہنچ گیا جبکہ گرین شرٹس کا سفر تمام ہو گیا۔
یاد رہے کہ قومی کرکٹرز کی سالانہ آمدنی کروڑوں روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اے کیٹیگری پلیئر کا ماہانہ معاوضہ 45 لاکھ روپے جبکہ آئی سی سی ریونیو شیئر 20 لاکھ 70 ہزار روپے ہے۔ بی کیٹیگری کو 30 لاکھ ماہانہ اور 15 لاکھ 52 ہزار 500 روپے شیئر ملتا ہے۔ سی کیٹیگری میں 10 لاکھ ماہانہ اور 10 لاکھ 35 ہزار روپے شیئر جبکہ ڈی کیٹیگری میں ساڑھے سات لاکھ ماہانہ اور 5 لاکھ 17 ہزار 500 روپے شیئر دیا جاتا ہے۔ میچ فیس اس کے علاوہ ہے۔یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک کے سنٹرل کنٹریکٹ میں کسی کھلاڑی کو اے کیٹیگری میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
ٹیم مینجمنٹ پر سوالات
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت قومی ٹیم کے معاملات میں ہیڈ کوچ Mike Hesson کا کردار نمایاں ہے جبکہ کپتان سلمان علی آغا کو فرنٹ پر رکھا جاتا ہے۔ شاداب خان بھی اہم فیصلوں میں شریک رہتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق کپتان کی حکمت عملی اور سینیئر بیٹر بابر اعظم کی فارم دونوں سوالیہ نشان بن گئیں۔ذرائع کے مطابق پی سی بی آئندہ چند روز میں مزید سخت فیصلے بھی کر سکتا ہے تاکہ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے اور شائقین کی مایوسی کا ازالہ کیا جا سکے۔