اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے سالانہ گری کپ فائنل میں اس سال اس وقت خصوصی رنگ بھر گیا جب وزیرِاعظم مارک کارنی نے میدان میں داخل ہو کر افتتاحی سکہ اچھالا۔ اگرچہ تقریب روایتی جوش و خروش سے بھرپور تھی، لیکن وزیرِاعظم کی موجودگی پر عوامی ردِعمل واضح طور پر ملا جلا دکھائی دیا۔ کچھ تماشائیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کا خیرمقدم کیا، جب کہ کئی حلقوں نے سیاسی صورتحال اور موجودہ حکومتی پالیسیوں کے باعث ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔
میدان میں تقریب کے آغاز کے وقت ہزاروں شائقین اپنی اپنی ٹیموں کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے، مگر جیسے ہی مارک کارنی گراؤنڈ میں آئے، تالیوں اور ہلکی بُو کے ملے جلے ردّعمل نے فضا کو بدل دیا۔ وزیرِاعظم نے مختصر انداز میں رسمی انداز سے سکہ اچھال کر کھیل کا افتتاح کیا اور ٹیموں کے لیے نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل ہمیشہ لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتا ہے اور کینیڈا میں فٹبال کی روایت عوام کے دلوں میں خاص مقام رکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ردِعمل حالیہ سیاسی بحث و مباحثے اور حکومتی فیصلوں کا نتیجہ ہے، جن پر عوامی رائے مکمل طور پر یکساں نہیں رہی۔ کچھ لوگ کارنی کو ایک مضبوط اور واضح پالیسی رکھنے والا رہنما سمجھتے ہیں، جب کہ کچھ انہیں ملکی معاملات میں غیر یقینی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے گری کپ جیسے غیر سیاسی ایونٹ میں بھی سیاسی رنگ شامل کر دیا۔
اس کے باوجود تقریب مجموعی طور پر پُرامن رہی اور شائقین نے میچ کا بھرپور لطف اٹھایا۔ ماہرین کے مطابق کھیل کے بڑے مقابلے عوامی جذبات کی جھلک دکھاتے ہیں، اور وزیرِاعظم کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ عوام سے براہ راست رابطہ قائم کر سکیں۔ وقت بتائے گا کہ یہ عوامی ردِعمل سیاسی منظرنامے پر کیا اثرات مرتب کرے گا، مگر گری کپ میں کارنی کی موجودگی یقیناً اس سال کے ایونٹ کو مزید نمایاں بنا گئی۔