اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق سخت اور متنازع مؤقف اختیار کرنے
اور یورپی ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر بے یقینی اور شدید اتار چڑھاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت نہ دی گئی تو یکم فروری سے آٹھ یورپی ممالک کی درآمدات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا جائے گا، جسے یکم جون سے بڑھا کر 25 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ ان ممالک میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس اعلان کے فوری اثرات عالمی منڈیوں میں دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورو کرنسی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے جبکہ یورپی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان بڑھنے کا امکان ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے، جو نہ صرف دونوں خطوں کی معیشت بلکہ عالمی تجارتی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر کی اس دھمکی پر یورپی رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی ممالک کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیرف کی دھمکیاں یورپ اور امریکا کے دیرینہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور یہ ایک خطرناک تجارتی جنگ کو جنم دے سکتی ہیں، جس کے نتائج دونوں اطراف کے عوام اور کاروباری طبقے کو بھگتنا پڑیں گے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ گرین لینڈ ایک خودمختار خطہ ہے اور اس سے متعلق فیصلے دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کیے جا سکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو عالمی تجارت، سپلائی چین اور سرمایہ کاری کے رجحانات بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے بھی اس پیش رفت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور فریقین پر زور دے رہے ہیں کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔