اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کیوبیک کے پریمیئر فرانسوا لیگالٹ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبہ محض نو ماہ بعد عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے اور ان کی جماعت، کولیشن اوانیر کیوبیک (CAQ)، شدید سیاسی دباؤ اور عوامی بے چینی کا سامنا کر رہی ہے۔ لیگالٹ نے واضح کیا کہ وہ اس وقت تک وزیرِاعلیٰ اور پارٹی لیڈر رہیں گے جب تک سی اے کیو کا نیا سربراہ منتخب نہیں ہو جاتا۔
68 سالہ لیگالٹ، جو حالیہ مہینوں میں بارہا یہ کہتے رہے تھے کہ وہ آئندہ انتخابات میں بھی پارٹی کی قیادت کریں گے، نے اعتراف کیا کہ کیوبیک کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ کیوبیک سٹی میں دی گئی ایک غیر متوقع تقریر میں، جس میں ان کی اہلیہ ازابیل بری اور چیف آف اسٹاف مارٹن کوسکینن بھی موجود تھے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے پارٹی اور صوبے کے “بہترین مفاد” میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ دسمبر میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق، تقریباً تین چوتھائی کیوبیکرز کی رائے تھی کہ لیگالٹ کو اپنی مدت کے دوران یا اس کے اختتام پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔
سی اے کیو اس وقت رائے عامہ کے جائزوں میں پارٹی کیوبیکوا اور اسکینڈلز سے گھری کیوبیک لبرلز کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔ لیگالٹ نے امید ظاہر کی کہ 5 اکتوبر کو ہونے والا انتخاب محض چہرے بدلنے کے بجائے معیشت اور فرانسیسی زبان کے تحفظ جیسے بڑے مسائل پر مرکوز ہوگا۔
سروائیکل کینسر سے آگاہی کا مہینہ، کیوبیک میں خواتین کی صحت، نئی اسکریننگ اور بروقت تشخیص پر زور
لیگالٹ کے لیے یہ فیصلہ ایک مشکل سال کے بعد آیا ہے۔ ان کی دو مدتوں پر مشتمل اکثریتی حکومت کو متعدد بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں اہم وزراء کی روانگی، بڑھتا ہوا مالی خسارہ، نارتھ وولٹ جیسے ناکام منصوبے، ڈاکٹروں کی ہڑتال نما بغاوت اور صوبائی آٹو انشورنس بورڈ میں لاگت میں بے تحاشا اضافے جیسے معاملات شامل ہیں۔ عوامی ناراضگی کا اظہار گزشتہ سال ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی ہوا، جہاں سی اے کیو کو مسلسل چار شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ صورتحال لیگالٹ اور ان کی جماعت کے لیے زوال کی ایک بڑی مثال ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ 2018 میں سی اے کیو نے شاندار کامیابی کے ساتھ تقریباً نصف صدی سے جاری لبرل اور پارٹی کیوبیکوا کی بالادستی کا خاتمہ کیا تھا۔ 2022 میں تو ان کی فتح اتنی واضح تھی کہ پولنگ ختم ہونے کے چند منٹ بعد ہی نتیجہ سامنے آ گیا تھا۔
اپنی پریس کانفرنس میں لیگالٹ نے اپنے دورِ حکومت کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں فرانسیسی زبان کے قوانین کو سخت کرنا، بل 96 کے ذریعے زبان کے چارٹر میں تبدیلی اور سیکولرازم کے قانون کا نفاذ شامل ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، 2025 کے بحرانوں نے ان کے دور پر گہرا سایہ ڈال دیا، اور یہی عوامل بالآخر ان کے استعفے کا سبب بنے۔ لیگالٹ کے بقول، کیوبیک کی خدمت کرنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا، مگر اب وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قیادت میں تبدیلی ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔