فری لینڈ آج باضابطہ طور پر کینیڈا کی رکنِ پارلیمنٹ کے عہدے سے مستعفی ہو گئیں

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)سابق وفاقی وزیرِ خزانہ کرسٹیا فری لینڈ آج باضابطہ طور پر کینیڈا کی رکنِ پارلیمنٹ کے عہدے سے مستعفی ہو گئی ہیں، کیونکہ انہوں نے یوکرین کی حکومت کو مشاورتی خدمات فراہم کرنے کا ایک نیا رضاکارانہ کردار سنبھال لیا ہے۔ ان کے استعفے کے بعد نہ صرف لبرل پارٹی بلکہ پارلیمنٹ کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی فوری اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

فری لینڈ کی رخصتی سے وزیرِ اعظم مارک کارنی کی لبرل حکومت ایوانِ زیریں میں اکثریت سے دو نشستیں کم ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال اس کے باوجود پیدا ہوئی ہے کہ گزشتہ سال دو کنزرویٹو ارکان کے پارٹی تبدیل کر کے لبرلز میں شامل ہونے سے حکومت کو وقتی فائدہ حاصل ہوا تھا۔

اب فری لینڈ کے حلقے، ٹورنٹو کے یونیورسٹی–روزڈیل، میں ضمنی انتخاب کرانا لازم ہو گیا ہے، جس کی وہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک نمائندگی کرتی رہیں۔ کینیڈا الیکشنز ایکٹ کے مطابق، اسپیکر کی جانب سے الیکشنز کینیڈا کو نشست خالی ہونے کی اطلاع دینے کے بعد 11 سے 180 دن کے اندر انتخابی حکم نامہ جاری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس حساب سے ضمنی انتخاب کی ممکنہ طور پر ابتدائی تاریخ مارچ ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی روزڈیل کی لبرل رائیڈنگ ایسوسی ایشن نے فوری طور پر اس بارے میں کوئی ردِعمل نہیں دیا کہ فری لینڈ کی جگہ لبرل امیدوار کون ہوگا۔ یہ نشست روایتی طور پر لبرلز کے لیے محفوظ سمجھی جاتی ہے، کیونکہ گزشتہ سال فری لینڈ نے تقریباً دو تہائی ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں ;کریسٹیا فری لینڈ کا نئی عالمی ذمہ داری نبھانے کے لیے پارلیمنٹ چھوڑنے کا اعلان

فری لینڈ کی نشست خالی ہونے کے بعد ایوانِ نمائندگان میں عددی توازن اس طرح ہے: لبرلز 170 نشستوں پر ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس مجموعی طور پر 172 نشستیں ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی کے پاس 142، بلاک کیوبیکوا کے پاس 22، این ڈی پی کے پاس سات اور گرین پارٹی کے پاس ایک نشست ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فری لینڈ کی رخصتی شاید وزیرِ اعظم کارنی کے لیے واحد چیلنج نہ ہو۔ برطانیہ اور یورپ میں سفارتی عہدوں کے خالی ہونے کی اطلاعات ہیں، جنہیں پُر کرنے کے لیے حکومت مزید لبرل ارکان کو پارلیمنٹ سے باہر تعینات کر سکتی ہے۔ ادھر کنزرویٹو رکنِ پارلیمنٹ میٹ جینرو نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ بہار سے قبل اپنی ایڈمنٹن کی نشست سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔

فری لینڈ کا یہ فیصلہ کئی مہینوں سے زیرِ غور تھا۔ ستمبر میں انہوں نے کابینہ چھوڑ کر وزیرِ اعظم کارنی کی خصوصی نمائندہ برائے یوکرین کی تعمیرِ نو کے طور پر پارلیمانی سیکریٹری کا کردار سنبھالا تھا۔ نومبر میں روڈز ٹرسٹ نے اعلان کیا کہ فری لینڈ یکم جولائی سے تعلیمی خیراتی ادارے کی نئی چیف ایگزیکٹو آفیسر بنیں گی، جس کے لیے وہ آکسفورڈ، برطانیہ منتقل ہوں گی۔

پیر کے روز یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ انہوں نے کریسشیا فری لینڈ کو اپنے ملک میں معاشی ترقی سے متعلق مشیر مقرر کیا ہے۔ اسی دن فری لینڈ نے وزیرِ اعظم کارنی کے یوکرین سے متعلق مشاورتی کردار سے فوری استعفیٰ دینے اور بطور رکنِ پارلیمنٹ بھی جلد مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ بدھ کو انہوں نے تصدیق کی کہ ان کا استعفیٰ 9 جنوری سے مؤثر ہوگا۔

 فری لینڈ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے عالمی سطح پر یوکرین کی مضبوط حامی کے طور پر جانی جاتی ہیں اور روسی اثاثے ضبط کر کے یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرنے کی بین الاقوامی کوششوں میں پیش پیش رہی ہیں۔

اپوزیشن ارکان نے تنقید کی کہ انہیں یوکرینی کردار سنبھالنے سے پہلے پارلیمانی نشست چھوڑ دینی چاہیے تھی۔ فری لینڈ نے اس معاملے پر کوئی انٹرویو نہیں دیا، تاہم سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ عہدہ غیر تنخواہ دار ہے اور انہوں نے اخلاقیات کے کمشنر سے مشورہ کر کے ان کی ہدایات پر عمل کیا ہے۔

انہوں نے کہا2013 سے پارلیمنٹ میں اپنے حلقے اور تمام کینیڈینز کی خدمت کرنا میرے لیے ایک اعزاز رہا ہے۔ آئندہ بھی میں ہر ممکن طریقے سے کینیڈا کی خدمت جاری رکھوں گی اور یوکرین کے بہادر عوام کی جدوجہد کی حمایت کرتی رہوں گی، جو میری زندگی بھر کی وابستگی رہی ہے۔

فری لینڈ نے سابق وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے دور میں کئی اہم وزارتیں سنبھالیں، جن میں نائب وزیرِ اعظم، وزیرِ خارجہ، وزیرِ بین الاقوامی تجارت اور وزیرِ خزانہ شامل ہیں۔ 2024 میں وزیرِ خزانہ کے طور پر ان کا اچانک استعفیٰ، جو خزاں کے معاشی بیان سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا، ٹروڈو حکومت کے خاتمے اور مارک کارنی کے وزیرِ اعظم بننے کا سبب بنا۔

بعد ازاں وہ لبرل قیادت کی دوڑ میں دوسرے نمبر پر رہیں، تاہم مارک کارنی نے 86 فیصد ووٹ لے کر واضح برتری حاصل کی۔ فری لینڈ کا سیاست سے یہ مرحلہ وار اخراج نہ صرف لبرل پارٹی بلکہ کینیڈا کی وفاقی سیاست کے لیے بھی ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں