اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف نافذ کرنے کے بعد امریکی منڈیوں نے سالوں میں اپنی سب سے بڑی یومیہ فیصد کمی ریکارڈ کی۔
بڑے پیمانے پر نافذ کردہ ٹیرف سے عالمی تجارتی جنگ اور عالمی معیشت میں کساد بازاری کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ٹرمپ نے زیادہ تر امریکی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا، جبکہ دوسرے ممالک پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کیا۔ اس اقدام سے عالمی تجارتی نظام کو درہم برہم کرنے کی صلاحیت ہے، جو کہ چند ماہ قبل تک امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں کاروباری حامی پالیسیوں کی بدولت ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا تھا۔
سرمایہ کاروں نے وال اسٹریٹ پر حفاظت کی تلاش کی اور سرکاری بانڈز کی طرف رجوع کیا، جنہیں محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔وال سٹریٹ پر شدید گراوٹ نے مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے کیونکہ عالمی تجارت میں شامل دیگر ممالک ٹرمپ کے فیصلوں پر ردعمل کا انتظار کر رہے ہیں۔دوسری جانب چین نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے جب کہ یورپی یونین بھی 20 فیصد ٹیکس کی مخالفت کر رہی ہے۔جنوبی کوریا، میکسیکو، بھارت اور دیگر تجارتی شراکت داروں نے کہا ہے کہ وہ 9 اپریل سے پہلے محصولات میں چھوٹ حاصل کریں گے۔ان عالمی رد عمل نے سرمایہ کاروں کی بے چینی کی لہر کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں وال سٹریٹ میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔