چاکلیٹ سے لگژری تک: ایڈونٹ کیلنڈر کیسے 11 ہزار ڈالر کا شوق بن گئے؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کبھی مذہبی روایت اور بعد ازاں بچوں کے لیے کرسمس تک دن گننے کا سادہ سا ذریعہ سمجھے جانے والے ایڈونٹ کیلنڈر آج ایک مکمل تجارتی پراڈکٹ بن چکے ہیں۔

1950 کی دہائی میں چاکلیٹ والے ایڈونٹ کیلنڈرز متعارف ہوئے اور 1971 میں کیڈبری نے انہیں بڑے پیمانے پر مارکیٹ کیا تاکہ بچوں کو عیسائی روایت ’’ایڈونٹ‘‘ سے جوڑا جا سکے، مگر اب یہ روایت مہنگی اشیا کی فروخت کا طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔آج ایڈونٹ کیلنڈر تقریباً ہر قسم کی پراڈکٹ میں دستیاب ہیں، جن میں لیگو، شراب، آئس کریم، زیورات، میک اپ، جنسی کھلونے، ماہی گیری کا سامان حتیٰ کہ بھنگ (کینابس) تک شامل ہے۔ اس رجحان کو سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے مزید ہوا دی ہے، جو ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر مہنگے لگژری ایڈونٹ کیلنڈرز کی ان باکسنگ ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا کیلنڈر معروف فیشن برانڈ ڈیور کا ہے، جس کی قیمت تقریباً 11 ہزار کینیڈین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
کینیڈین مارکیٹنگ ماہر اور یونیورسٹی آف نارتھ ڈکوٹا میں پروفیسر رابرٹ وارن کے مطابق یہ رجحان ’’کرسمس کریپ‘‘ کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنیاں کرسمس سے بہت پہلے ہی صارفین کو خریداری پر آمادہ کرنا شروع کر دیتی ہیں تاکہ مجموعی خرچ میں اضافہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ایڈونٹ کیلنڈر اس مقصد کے لیے ایک آسان اور مؤثر طریقہ بن چکے ہیں، خاص طور پر نوجوان صارفین کے لیے جو روزانہ کسی چھوٹے تحفے کو کھولنے کے تجربے کو پسند کرتے ہیں۔
مونٹریال سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ مایا واروِک برونیلی کے لیے ایڈونٹ کیلنڈر جذباتی وابستگی کی علامت ہیں۔ ان کی والدہ گزشتہ تین برس سے انہیں ’’بون مامان‘‘ کمپنی کا جام سے بھرا ایڈونٹ کیلنڈر تحفے میں بھیجتی ہیں، جس میں 24 چھوٹے جار ہوتے ہیں۔ اگرچہ دونوں کرسمس پر ایک ساتھ نہیں ہوتیں، مگر یہ کیلنڈر انہیں ایک دوسرے سے جڑے رہنے کا احساس دلاتا ہے۔ تقریباً 60 ڈالر قیمت والا یہ کیلنڈر مہنگے لگژری ورژنز کے مقابلے میں کہیں سستا ہے۔
مارکیٹنگ ماہر ڈاکٹر للی لن کے مطابق محدود ایڈیشن پراڈکٹس اس رجحان کو مزید پرکشش بنا دیتی ہیں، کیونکہ صارفین میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے بروقت خریداری نہ کی تو وہ کسی خاص چیز سے محروم ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی طور پر کسی بڑے دن سے پہلے انتظار اور گنتی کا عمل خود اس دن سے زیادہ خوشی کا باعث بن سکتا ہے، اور ایڈونٹ کیلنڈر اسی جذبے کو استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنریشن زی (Gen Z) اور کم عمر صارفین اس رجحان کو تیزی سے اپنا رہے ہیں، خاص طور پر میک اپ اور سیلف کیئر جیسی کیٹیگریز میں۔ تاہم معاشی دباؤ اور مہنگائی کے اس دور میں یہ خواہشات والدین کے لیے مالی بوجھ بن سکتی ہیں، جیسا کہ بعض 11 یا 12 سال کے بچوں کا مہنگے برانڈز کے ایڈونٹ کیلنڈر مانگنا۔
دوسری جانب، مونٹریال کی کنٹینٹ کریئیٹر اور ’’ڈی انفلوئنسر‘‘ کرسٹین لین خبردار کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا نے نوجوانوں میں غیر حقیقی مالی موازنہ پیدا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اب بچے اور نوجوان اپنے آس پاس کے لوگوں سے نہیں بلکہ مشہور شخصیات اور ارب پتیوں کے طرزِ زندگی سے خود کا موازنہ کرتے ہیں، جس سے غیر ضروری خریداری کو معمول سمجھا جانے لگا ہے۔
ماہرین یہ بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مہنگائی اور گھروں کی عدم دستیابی کے باعث بعض نوجوان بڑی سرمایہ کاری کے بجائے چھوٹی مگر لگژری اشیا پر خرچ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم اس رجحان کا ماحولیاتی پہلو بھی تشویش ناک ہے، کیونکہ ایڈونٹ کیلنڈرز میں بہت زیادہ پیکجنگ استعمال ہوتی ہے جو تھوڑی سی پراڈکٹ کے مقابلے میں ماحول پر بڑا بوجھ ڈالتی ہے۔
یوں ایک مذہبی روایت سے جنم لینے والا ایڈونٹ کیلنڈر آج صارفیت، سوشل میڈیا اور لگژری مارکیٹنگ کی علامت بن چکا ہے، جو خوشی، دباؤ اور فضول خرچی تینوں کو ایک ساتھ سمیٹے ہوئے ہے۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں