غزہ کی تعمیر نوکامنصوبہ، ٹرمپ کی مارک کارنی کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کو غزہ کی تعمیرِ نو اور انتظامی امور کے لیے قائم کیے گئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

یہ بورڈ صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ غزہ میں حکمرانی، استحکام اور بحالی کے عمل کی نگرانی کرنا ہے۔ کینیڈا کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کے مطابق مارک کارنی اس دعوت کو قبول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم تاحال انہوں نے باضابطہ طور پر صدر ٹرمپ کو اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعے کو جاری کی گئی ابتدائی فہرست میں بورڈ کے ایگزیکٹو اراکین کے نام شامل کیے گئے تھے، تاہم اس فہرست میں مارک کارنی کا نام موجود نہیں تھا۔ اسی روز امریکی نگرانی میں غزہ کے لیے قائم فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس قاہرہ میں منعقد ہوا۔ اس کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر علی شاعتھ، جو غزہ سے تعلق رکھنے والے انجینئر اور فلسطینی اتھارٹی کے سابق عہدیدار ہیں، نے فوری طور پر کام شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کے مطابق غزہ کی مکمل تعمیرِ نو اور بحالی میں تقریباً تین سال لگ سکتے ہیں، جبکہ ابتدائی توجہ رہائش اور فوری انسانی ضروریات پر دی جائے گی۔

ٹرمپ کے منصوبے کے تحت ڈاکٹر علی شاعتھ کی کمیٹی غزہ کے روزمرہ امور چلائے گی، جبکہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ نگرانی کا کردار ادا کرے گا۔ اس بورڈ میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، داماد جیرڈ کشنر، سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر، اپولو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ مارک کارنی کو اس بورڈ میں کون سی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے اعلان کو محض ایک ’’اعلانی قدم‘‘ قرار دیا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود کئی اہم سوالات تاحال جواب طلب ہیں، جن میں بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی، رفح بارڈر کراسنگ کی بحالی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے عملی طریقۂ کار شامل ہیں۔

غزہ کے عوام نے زمینی صورتحال میں کسی بڑی بہتری پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک 450 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں یونیسف کے مطابق 100 سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اگرچہ اسرائیل ان اعداد و شمار سے اختلاف کرتا ہے۔ یہ جنگ اب اپنے تیسرے سرد موسم میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ انسانی بحران بدستور شدید ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں