ارد و ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) گوگل نے اپنے صارفین کو ایک بڑی سہولت فراہم کرتے ہوئے ایسا فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر لی ہے جس کا مطالبہ برسوں سے کیا جا رہا تھا۔
اکثر افراد نے کم عمری یا ناسمجھی میں ایسے ای میل ایڈریس بنا لیے تھے جو بعد ازاں پیشہ ورانہ زندگی میں باعثِ شرمندگی بنتے ہیں، تاہم اب گوگل نے اس مسئلے کا ممکنہ حل پیش کر دیا ہے۔ نئی اپ ڈیٹ کے مطابق جی میل صارفین کو اپنا موجودہ ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے، وہ بھی اس طرح کہ ان کا پرانا ڈیٹا، ای میلز اور دیگر معلومات محفوظ رہیں گی۔
گوگل کے اکاؤنٹ ہیلپ پیج پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہ فیچر فی الحال محدود پیمانے پر متعارف کرایا گیا ہے اور ابتدائی طور پر صرف بھارت میں دستیاب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیچر سے متعلق مکمل ہدایات اس وقت صرف گوگل کے ہندی زبان کے سپورٹ پیج پر موجود ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمپنی نے اس سہولت کا آغاز تجرباتی بنیادوں پر بھارت سے کیا ہے۔ تاہم اسی صفحے پر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مستقبل میں یہ سہولت مرحلہ وار دیگر ممالک کے صارفین کو بھی فراہم کی جائے گی۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ فیچر ان لاکھوں صارفین کے لیے بڑی خوشخبری ہے جنہوں نے بچپن یا نوعمری میں غیر سنجیدہ یا نامناسب ای میل ایڈریس بنا لیے تھے اور بعد میں انہیں پیشہ ورانہ یا سرکاری امور میں استعمال کرتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب تک گوگل کی پالیسی یہ تھی کہ ایک بار بنایا گیا ای میل ایڈریس تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا، البتہ نیا اکاؤنٹ بنایا جا سکتا تھا جس کے باعث پرانا ڈیٹا ضائع ہونے یا منتقل کرنے میں دقت پیش آتی تھی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گوگل کے انگریزی زبان کے سپورٹ پیج پر تاحال یہی پرانی معلومات درج ہیں جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جی میل ایڈریس تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس تضاد نے صارفین میں مزید تجسس پیدا کر دیا ہے کہ آیا یہ فیچر واقعی عالمی سطح پر لانچ ہوگا یا نہیں۔ تاہم ہندی پیج پر دی گئی تفصیلات سے یہ اندازہ ضرور لگایا جا رہا ہے کہ گوگل اس سمت میں سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔
دوسری جانب گوگل کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی عموماً ایسے فیچرز کو مرحلہ وار متعارف کراتی ہے تاکہ کسی تکنیکی خرابی یا سیکیورٹی مسئلے سے بچا جا سکے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ سہولت دنیا بھر کے صارفین کے لیے دستیاب ہو جائے گی۔
اگر یہ فیچر عالمی سطح پر متعارف ہو جاتا ہے تو یہ گوگل کی تاریخ کی ایک اہم اپ ڈیٹ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ پہلی بار صارفین کو اپنی شناخت سے جڑے ای میل ایڈریس کو تبدیل کرنے کی آزادی ملے گی، وہ بھی بغیر ڈیٹا ضائع کیے۔ یوں لاکھوں افراد کو برسوں پرانی شرمندگی سے نجات ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔