امریکہ میں بے روز گار افراد کیلئے خوشخبری،لاکھوں نئی ملازمتیں

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکہ کی معیشت اس وقت ایک پیچیدہ دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک جانب لاکھوں نئی ملازمتوں کے دروازے کھل رہے ہیں

دوسری جانب بے روزگاری کی شرح میں اضافہ معیشت کی کمزوریوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔ امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹکس کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک لاکھ انیس ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوئیں، جو توقعات سے زیادہ ہیں۔ بظاہر یہ پیش رفت امریکی معیشت کے لیے خوش آئند دکھائی دیتی ہے، مگر تصویر کا دوسرا رخ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔سب سے زیادہ ترقی ہیلتھ کیئر، ریستوران اور فوڈ سروسز، اور سماجی معاونت جیسے شعبوں میں ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سروس سیکٹر اب بھی امریکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ تاہم، وہ سیکٹرز جنہیں مضبوط ہونا چاہیے تھا، بدستور دباؤ کا شکار ہیں۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 6 ہزار نوکریوں کا خاتمہ خاص طور پر قابلِ غور ہے، کیونکہ یہی شعبہ سابقہ حکومت کے معاشی بیانیے کا مرکز رہا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹیشن اور ویئر ہاؤسنگ میں 25 ہزار سے زائد ملازمتیں ختم ہونا اس گرتی ہوئی معاشی قوت کا واضح اظہار ہے۔

مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ نئی نوکریوں کے باوجود  بے روزگاری کی شرح 4.3 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد  ہوگئی۔ اس اضافے کی وجہ لیبر فورس میں *چار لاکھ پچاس ہزار نئے افراد کا شامل ہونا بتایا جاتا ہے، مگر معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ رجحان مسابقت میں اضافہ تو کرتا ہے، لیکن ملازمتوں کی حقیقی دستیابی کو چیلنج بھی بناتا ہے۔دوسری طرف اجرتوں میں نمو کی رفتار کا سست پڑ جانا بھی معیشت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ بہتر اور مضبوط معیشت کی پہچان اجرتوں کے مسلسل بہتر ہوتے رجحان سے ہوتی ہے، مگر موجودہ اعداد و شمار اس کے برعکس صورتحال ظاہر کر رہے ہیں۔

ان سب عوامل کے درمیان، نجی اداروں کے اعداد و شمار صورتحال کو مزید مایوس کن بناتے ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں **ایمزون، جنرل موٹرز، آئی بی ایم، مائیکروسافٹ، پیراماؤنٹ اور دیگر بڑی کمپنیوں نے ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا** ہے۔ ویریزون کی جانب سے  13 ہزار  ملازمین کو نکالنے کا اعلان اور اکتوبر میں  39 ہزار لوگوں کو لائحۂ عمل سے خارج کیے جانے کی اطلاعات امریکی معیشت کے لیے خطرناک اشارے ہیں۔ اس پیمانے پر برطرفیاں اس سے پہلے صرف بحران کے وقت دیکھی گئی تھیں۔یہ تمام حالات مل کر ایک ایسے معاشی ماحول کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں امید اور اضطراب ایک ساتھ موجود ہیں۔ نئی ملازمتوں کا اضافہ یقیناً خوش آئند ہے، لیکن اگر اجرتیں جمود کا شکار رہیں، اگر مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ کا شعبہ گرتا رہا، اور اگر بڑی کمپنیاں مسلسل اپنے عملے میں کمی کرتی رہیں، تو مستقبل میں نئی ملازمتیں بھی بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کو روک نہیں سکیں گی۔

امریکہ کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی معاشی پالیسیوں کو اس طریقے سے استوار کرے کہ نہ صرف نوکریوں کا معیار بہتر ہو بلکہ مکمل روزگار کا ہدف بھی قابلِ حصول بنے۔ بصورتِ دیگر، نئی ملازمتوں کے اعلان اور بڑھتی بے روزگاری کے درمیان یہی تضاد امریکی معیشت کی سب سے بڑی کمزوری بن کر اُبھرتا رہے گا۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں