اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ، پیٹرول 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا
حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کرتے ہوئے عوام پر بڑا معاشی بوجھ ڈال دیا ہے۔ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے مشترکہ پریس کانفرنس میں نئی قیمتوں کا اعلان کیا۔اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول پر لیوی میں 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ بڑھ کر 160 روپے 61 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ دوسری جانب حکومت نے ڈیزل پر لیوی ختم کر دی ہے، جو پہلے 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر تھی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عوامی ریلیف کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں کو ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، ٹرک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی، پاکستان ریلوے کو بھی سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ کرایوں میں اضافہ کم سے کم رکھا جا سکے
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملکی قیادت کی مشاورت سے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث حکومت کو مجبوراً یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ان کے مطابق عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہےتیل کی ترسیل کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے آتا ہے، جہاں صورتحال کشیدہ ہے کئی ممالک نے توانائی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے
انہوں نے کہا کہ “اس صورتحال میں پیدا ہونے والے طوفان میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں، تاہم حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے۔”
حکومت کا کہنا ہے کہ پہلے دی جانے والی بلینکٹ سبسڈی (تمام افراد کے لیے یکساں ریلیف) اب مؤثر نہیں رہی، اس لیے اب صرف کمزور اور مستحق طبقات کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی۔وزیر پیٹرولیم کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے صورتحال کا جائزہ لے کر بروقت فیصلے کیے، جس کے باعث ملک میں ایندھن کی سپلائی برقرار رہی۔ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔