اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان میں صحت کے شعبے میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت کے طور پر کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی
کے لیے حکومت پاکستان اور ایک معروف ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی کے درمیان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ملک میں کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا غریب اور مستحق مریضوں کو مہنگے علاج کے بوجھ سے نجات دلانا ہے، جو برسوں سے عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا تھا۔اس سلسلے میں معاہدے کی باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر صحت، وفاقی سیکریٹری صحت، متعلقہ سرکاری حکام، طبی ماہرین اور نجی دوا ساز کمپنی Roche کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ تقریب میں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ پانچ سالہ مدت پر مشتمل ہے، جس کے تحت ہزاروں کینسر مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام کو صحت کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ اشتراک کی ایک مثالی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب کے دوران وفاقی سیکریٹری صحت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔ ان مریضوں کا علاج پمز اسپتال اسلام آباد میں کیا جائے گا، جہاں جدید سہولیات اور ماہر ڈاکٹرز پہلے ہی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو گا بلکہ قومی صحت کے نظام کو بھی مضبوط بنانے میں معاون ہو گا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل انتہائی سنگین ہیں، جن میں کینسر ایک بڑا اور جان لیوا مرض ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد مختلف بیماریوں کے باعث غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں، اور کینسر کا مہنگا علاج ان مسائل میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایک کینسر مریض کے علاج پر پانچ سال میں اوسطاً 98 لاکھ روپے خرچ آتے ہیں، جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت “پہلے آئیے، پہلے پائیے” کی بنیاد پر مریضوں کا انتخاب کیا جائے گا اور ہر 741 مریضوں کو فی مریض تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کا علاج بالکل مفت فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو غریب عوام کے لیے ایک بڑی سہولت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد علاج کو مراعات نہیں بلکہ حق بنانا ہے، تاکہ کسی بھی شہری کو محض مالی مشکلات کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہنا پڑے۔
نجی دوا ساز کمپنی Roche کی منیجنگ ڈائریکٹر نے بھی معاہدے پر دستخط کیے اور اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں سماجی ذمہ داریوں پر یقین رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کمپنی کے وژن کا حصہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ شراکت داری مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گی اور دیگر مہلک بیماریوں کے علاج تک بھی پھیلائی جا سکے گی۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کے علاج میں بروقت تشخیص اور مستقل ادویات انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن پاکستان میں مہنگی ادویات کی وجہ سے اکثر مریض علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں مریضوں کو علاج کا تسلسل میسر آئے گا، جس سے صحت یابی کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ کینسر کے خلاف قومی سطح پر ایک مضبوط قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین صحت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اگر اس ماڈل کو کامیابی سے نافذ کیا گیا تو اسے صوبائی سطح پر بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں کے مریض بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ خاص طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں، یہ اقدام مریضوں کے لیے زندگی بچانے کا سبب بن سکتا ہے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور مختلف سماجی تنظیموں نے حکومت اور نجی کمپنی کے اس مشترکہ اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شفاف طریقہ کار کے تحت مستحق مریضوں کو ترجیح دی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ایسے منصوبے تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو پاکستان میں صحت کے شعبے میں حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔
مجموعی طور پر یہ معاہدہ پاکستان میں کینسر کے مریضوں کے لیے ایک بڑی امید بن کر سامنے آیا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کے اس اشتراک سے نہ صرف ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکیں گی بلکہ یہ اقدام اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ اگر نیت اور حکمت عملی درست ہو تو محدود وسائل کے باوجود عوام کو بڑی سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ آنے والے برسوں میں اس معاہدے کے اثرات پاکستانی صحت کے نظام پر گہرے اور دیرپا ثابت ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔