اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے بڑے سانحے کو محض شارٹ سرکٹ کا نتیجہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی ہر پہلو سے مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں کو اب بھی متاثرہ عمارت کے اندر بھیجا جا رہا ہے، تاہم بھاری مشینری کا استعمال محدود رکھا گیا ہے کیونکہ ریسکیو ورکرز کو اندر داخل ہو کر سرچ آپریشن مکمل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کی حالت نہایت خستہ ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت مزید منہدم ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق گل پلازہ کا تقریباً 40 فیصد حصہ گر چکا ہے، جبکہ باقی حصے کی سرچ مکمل کی جا چکی ہے، اب صرف وہ حصہ باقی ہے جو دونوں اطراف سے منہدم ہو چکا ہے۔
جاوید نبی کھوسو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے تحقیقات میں پیش رفت ہوگی، مستند معلومات عوام کے ساتھ شیئر کی جاتی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جاننا بھی تحقیقات کا حصہ ہے کہ کون سے دروازے کھلے تھے اور کون سے بند، اور آیا فائر سیفٹی کے تقاضے پورے کیے گئے تھے یا نہیں۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی کے مطابق اب تک اس سانحے میں تقریباً 80 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ 86 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کے نام باقاعدہ فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 14 جاں بحق افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں سے 8 کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 48 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ ملبے تلے دبے ممکنہ متاثرین کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شہر کی ان عمارتوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جہاں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات موجود نہیں۔ اب تک چھ عمارتوں کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق گل پلازہ میں ریسکیو 1122 کو فائنل سرچ کا حکم دے دیا گیا ہے، جس کے بعد عمارت کو مکمل طور پر مسمار کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کے وقت مارکیٹ کے داخلی و خارجی راستے بند نہیں تھے، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا اور مسجد سے باہر نکلنے کے دونوں راستے بھی قابلِ استعمال تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت بجلی بند نہ کی جاتی تو باہر نکلنے والے افراد بھی شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے تھے۔
ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے واضح کیا کہ عمارت کو مسمار کرنے کی ذمہ داری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی ہوگی، جبکہ ایس بی سی اے کی رپورٹ میں پہلے ہی گل پلازہ کو خطرناک اور ناقابلِ استعمال قرار دیا جا چکا تھا۔ حکام کے مطابق اس سانحے کے بعد شہر میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔