حماس کے رہنما ڈاکٹر سامی ابو زہری نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اپنے غلط موقف کا ازسر نو جائزہ لینا چاہیے کیونکہ امریکی انتظامیہ کے غلط مؤقف کی وجہ سے اسرائیل نے غزہ میں بڑے جرائم کا ارتکاب کیا۔ڈاکٹر سمیع ابو زہری نے کہا کہ امریکی انتظامیہ غزہ کے خلاف جارحیت میں شریک ہے۔ صیہونی فوج نے امریکہ اور مغرب کی حمایت سے غزہ میں 30 ہزار فلسطینیوں کو شہید کیا۔ امریکہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے کام کرے۔انہوں نے کہا کہ حماس اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے بہت مضبوط ہے ، اسرائیل غزہ کی مٹی میں ڈوب رہے ہیں، اسرائیل جارحیت کی قیمت چکانے سے پہلے اپنے قیدیوں کو زندہ نہیں نکال سکے گا۔
ڈاکٹر سامی ابو زہری نے کہا کہ حماس اپنے فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، ہم اسرائیلی جارحیت کے خاتمے سے پہلے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکتے، امریکی انتظامیہ کو بھی جان لینا چاہیے کہ حماس اپنے عوام کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کے جاری حملوں کو 90 روز مکمل ہوچکے ہیں، غزہ پر اسرائیلی بمباری سے اب تک 22 ہزار سے زائد افراد شہید اور 60 ہزار کے قریب زخمی ہوچکے ہیں جب کہ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔