اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز)کینیڈا کے تمام صوبوں، خطوں اور وفاقی حکومت نے گھریلو تجارت میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے ایک اہم اور تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ معاہدہ یکم دسمبر سے نافذ ہوگا جس کے بعد خوراک اور الکحل کے علاوہ زیادہ تر مصنوعات پر بین الصوبائی تجارتی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔بی سی کے وزیر برائے ایمپلائمنٹ اینڈ اکنامک ڈیولپمنٹ روی کاہلون نے بتایا کہ یہ معاہدہ ملکی سطح پر تجارت کو بے جا منظوریوں اور لیبلنگ کی شرائط سے آزاد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مصنوعات ایک صوبے کے قواعد کے مطابق فروخت کی منظوری حاصل کر لیتی ہے تو اسے پورے ملک میں اضافی معائنوں یا اجازت ناموں کے بغیر فروخت کیا جا سکے گا۔معاہدے کے تحت ہزاروں اشیا کو شامل کیا گیا ہے جن میں کپڑے، کھلونے، گاڑیاں، صنعتی سازوسامان اور صحت کی ٹیکنالوجی شامل ہیں۔گریٹر وینکوور بورڈ آف ٹریڈ کی صد ربریجٹ اینڈرسن نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری برسوں سے یہی مطالبہ کرتی آئی ہے کہ ایک صوبے میں منظوری حاصل کرنے والی مصنوعات تمام صوبوں میں قابل قبول ہونی چاہییں۔روی کاہلون نے مزید کہا کہ مستقبل میں اس معاہدے کے دائرہ کار کو خوراک، الکحل اور مالیاتی خدمات تک بڑھایا جا سکتا ہے، تاہم ان شعبوں کی ریگولیٹری پیچیدگیوں کے باعث اس عمل میں وقت لگے گا۔